صفائی نہ ہونے سے ’’راوی‘‘ نالا بنتا گیا

لاہور (کرائم رپورٹر)لاہور میں دریائے راوی ایک بار پھر سیلابی خطرات کی زد میں ہے۔سالہا سال کی غفلت اور انتظامی نااہلی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ڈریجنگ نہ ہونے سے دریا کی گنجائش خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق دریائے راوی کی کبھی باقاعدہ ڈریجنگ نہ کرنے سے صورتحال خراب ہوئی۔ برسوں سے دریا کی صفائی اور گہرائی بڑھانے کے اقدامات نہیں کیے گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ راوی نالا بنتا گیا، ایک بڑے دریا کا تصور ختم ہوتا رہا۔ سالوں سے کچرا، مٹی اور سیوریج دریا کا حصہ بنتے رہے اور ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔محکمہ انہار، واسا اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اس کے ذمہ دار تھے، مگر عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ کناروں پر تجاوزات ختم کرنے کے بجائے دریا مزید تنگ اور خطرناک بنا دیا گیا۔تینوں اداروں کی مجرمانہ غفلت نے دریا کی سیلابی صلاحیت سنگین حد تک کم کر دی۔ ڈریجنگ نہ کرنے کے باعث دریا کا پانی معمولی اضافے پر ہی کناروں سے باہر آنے لگا۔کئی عشروں سے نہ صفائی کی گئی، نہ کچرا نکالا گیا، نہ ہی کنارے مضبوط کیے گئے۔ ماہرین بارہا خبردار کرتے رہے مگر حکومت نے صرف اعلانات پر اکتفا کیا۔راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے منصوبے تو ضرور بنائے مگر عملی کام نہ دکھا سکی۔ واسا اور محکمہ انہار نے بھی اپنے بنیادی فرائض ادا نہیں کیے۔حکومت کے مطابق دریائے راوی کی موجودہ استعداد صرف ڈیڑھ لاکھ کیوسک رہ گئی ہے۔ اگر ڈریجنگ بروقت کی جاتی تو کپیسٹی اڑھائی سے تین لاکھ کیوسک تک بڑھ سکتی تھی۔اس وقت دریائے راوی میں ایک لاکھ ستر ہزار کیوسک سے زائد پانی بہہ رہا ہے۔ کپیسٹی سے زائد پانی آنے پر شدید سیلاب کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔موجودہ صورتحال دیگر عوامل کے ساتھ انتظامی غفلت کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر رہی ہے اور شہری بستیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے