دمشق: شام نے اردن کے ساتھ سفارتی کشیدگی میں کمی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مرکزی سرحدی گزرگاہ بدھ کے روز دوبارہ کھول دی۔
سرحدی راستے کی بحالی کو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی اور تعلقات میں بہتری کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق سرحدی گزرگاہ کی بندش اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ جنوبی شام میں اردنی فورسز کی کارروائیوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
اردنی حملوں کے بعد تعلقات میں تناؤ
رپورٹس کے مطابق اردن نے ایک چرچ پر مہلک فائرنگ کے واقعے کے ردعمل میں شام کے جنوبی علاقوں میں حملے کیے تھے۔ اردنی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کارروائیوں میں 20 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے، جبکہ شدت پسند تنظیم داعش سے منسوب اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی تباہ کردیا گیا۔دوسری جانب شامی حکام نے اپنے جنوبی علاقوں میں اردنی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس ردعمل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ مزید بڑھ گیا۔
شام اور اردن کے تعلقات کو بڑا دھچکا
رپورٹس کے مطابق دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی یہ کشیدگی ایک سنگین بحران بن گئی تھی۔تاہم اردن نے منگل کے روز کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے شام کے لیے احترام کا اظہار کیا اور کارروائی کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں پر افسوس ظاہر کیا۔
سرحدی گزرگاہ کی بحالی اہم پیش رفت
سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے بعد مرکزی سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت اور سرحدی رابطوں کی بحالی کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔شام اور اردن کے درمیان سرحدی راستے کی بحالی کو تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے مکمل خاتمے کے حوالے سے مزید پیش رفت اہم ہوگی۔