اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران ریکارڈ ٹرن آؤٹ نے سیاسی مقابلے کو مزید اہم بنا دیا، جبکہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچنے کی اپیل کی۔
انتخابی حکام کے مطابق پولنگ کے پہلے سات گھنٹوں میں 44.9 فیصد اہل ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جبکہ بعد ازاں مجموعی ٹرن آؤٹ 74 فیصد تک پہنچ گیا۔اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، کی 120 نشستوں کے لیے 73 لاکھ سے زائد افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ ووٹنگ کی غیر معمولی شرح کو انتخابی عمل میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق صرف زیادہ ٹرن آؤٹ کی بنیاد پر نتائج یا حکومت سازی کے امکانات کا حتمی اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔
عرب اسرائیلی ووٹرز کی شرکت پر سیاسی توجہ
انتخابات میں فلسطینی النسل عرب اسرائیلی شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو بھی اہمیت دی جا رہی تھی۔ انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق ان ووٹرز کی شرکت انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے اور نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کے لیے سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔اگر مخالف جماعتیں پارلیمان میں مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتیں تو حکومت سازی کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت اہم کردار ادا کرسکتی تھی۔ تاہم، حتمی نتائج اور مختلف جماعتوں کی نشستوں کی تعداد سامنے آنے سے پہلے سیاسی منظرنامے کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں تھا۔
نیتن یاہو کی حامیوں سے فوری ووٹنگ کی اپیل
ووٹنگ کے دوران وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے سیاسی مخالفین اور عرب اسرائیلی شہریوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ ہے، اس لیے ان کے حامیوں کو بھی انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لینا چاہیے۔نیتن یاہو نے عرب اسرائیلی شہریوں کی آبادی کا ذکر کرتے ہوئے اسے انتخابی نتائج کے لیے اہم لمحہ قرار دیا اور اپنے حامی ووٹرز پر زور دیا کہ وہ ووٹ ڈالنے میں تاخیر نہ کریں۔ان کے اس بیان سے انتخابی مہم میں ووٹرز کی شرکت اور مختلف آبادیاتی گروہوں کے انتخابی کردار کی اہمیت نمایاں ہوئی۔
لیکوڈ جماعت کی پولنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست مسترد
دوسری جانب نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے حامیوں کو پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچانے کے لیے ووٹنگ کا وقت بڑھانے کی درخواست دی، تاہم الیکشن کمیشن نے یہ مطالبہ مسترد کردیا۔سابق چیف آف اسٹاف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت یشار نے بھی پولنگ کے اوقات میں توسیع کی مخالفت کی تھی۔ انتخابی شیڈول کے مطابق پولنگ اسرائیلی وقت کے مطابق رات 10 بجے ختم ہونا تھی۔
حکومت سازی کے لیے نتائج اہم
اسرائیلی پارلیمانی انتخابات میں ووٹرز کی شرکت، جماعتوں کی نشستوں کی تعداد اور ممکنہ اتحادیوں کی حمایت حکومت سازی کے عمل میں اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔ 120 نشستوں پر مشتمل کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے عموماً کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق ریکارڈ ووٹنگ کے باوجود سیاسی جماعتوں کی اصل پوزیشن کا تعین حتمی نتائج اور اتحادی مذاکرات کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ عرب جماعتوں کا کردار بھی اس بات پر منحصر ہوگا کہ انتخابات کے بعد پارلیمان میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو کتنی نشستیں حاصل ہوتی ہیں۔