واشنگٹن: امریکی ریاست یوٹاہ کے پرووو کینین میں مشہور آبشار ’برائیڈل ویل فالس‘ کے قریب اچانک شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کے دوران پہاڑ سے دیوہیکل چٹانیں نیچے آ گریں۔
اس خطرناک واقعے میں ایک میاں بیوی بال بال بچ گئے، جبکہ حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیلی ہیملٹن اور ان کے شوہر ایمرسن ہیملٹن جمعے کے روز پرووو کینین سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے اچانک پہاڑ کے ایک بڑے حصے کو ٹوٹ کر نیچے گرتے دیکھا۔ پہاڑ سے چٹانیں گرنے کا یہ خوفناک منظر انہوں نے اپنے کیمرے میں بھی محفوظ کر لیا۔جوڑے کے مطابق پہاڑ سے گرنے والی چٹانیں غیر معمولی طور پر بڑی تھیں اور ان کے گرنے سے علاقے میں خوفناک آوازیں گونجنے لگیں۔ گزشتہ 10 برس سے اس وادی کے قریب رہائش پذیر بیلی اور ایمرسن ہیملٹن کا کہنا تھا کہ جمعے کے روز اس مقام پر عموماً ہائیکنگ کرنے والوں اور پیدل چلنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔واقعے کے وقت جوڑے کو سب سے پہلے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی سیاح یا پیدل چلنے والا شخص چٹانوں کی زد میں تو نہیں آ گیا۔ ممکنہ متاثرین کی مدد کرنے اور ریسکیو اہلکاروں کو اطلاع دینے کے لیے بیلی نے اپنی گاڑی قریبی مقام ’ننز پارک‘ (Nunns Park) میں کھڑی کی اور پیدل چلنے والے راستے کی جانب روانہ ہوگئیں۔
تاہم، جیسے ہی وہ ٹریک کے قریب پہنچیں تو انہیں ایک بار پھر لینڈ سلائیڈنگ کی خوفناک آواز سنائی دی۔ پہاڑ سے مزید چٹانیں گرنے کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے جوڑے نے فوری طور پر پیچھے مڑ کر دوڑ لگا دی اور محفوظ فاصلے کی جانب بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگئے۔واقعے کے بعد یوٹاہ کاؤنٹی کے حکام نے علاقے کا معائنہ کیا۔ حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کسی شخص کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم، پہاڑ سے بڑے پیمانے پر چٹانیں گرنے کے باعث سیاحوں اور مقامی افراد کی حفاظت کے پیش نظر فوری اقدامات کیے گئے۔حکام نے متاثرہ سیاحتی ٹریل کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ راستہ موسمِ سرما کے آغاز پر بند کیا جانا تھا، لیکن لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اسے مقررہ وقت سے پہلے ہی بند کردیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ ٹریل موسمِ سرما کے دوران بند رہے گا، جبکہ ملبہ ہٹانے اور صفائی کا کام موسمِ بہار میں شروع کیا جائے گا۔
پرووو کینین قدرتی مناظر اور سیاحتی مقامات کے باعث مشہور ہے، تاہم حالیہ لینڈ سلائیڈنگ نے اس علاقے میں قدرتی خطرات کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ پہاڑوں سے چٹانیں گرنے کے واقعات سیاحوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے اچانک خطرہ بن سکتے ہیں، اسی لیے حکام نے متاثرہ راستے کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔