اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ایشین ٹرانسپورٹ آبزرویٹری کہلانے والے اس ادارے نے بتایا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ملکوں میں شمار ہونے والے پاکستان میں سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات میں تقریباً ہر چھ منٹ بعد کسی نہ کسی انسان کی موت کی تصدیق عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار سے بھی ہوتی ہے۔اس آبزرویٹری کے مطابق پاکستان میں ہر سال ٹریفک حادثات میں ہلاک ہونے والوں میں سے تقریباً 60 فیصد افراد 15 سے 44 برس کی عمر کے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستانی سڑکوں پر حادثات میں مرنے والوں میں سے قریب 20 فیصد 14 سال سے کم عمر کے بچے ہوتے ہیں جبکہ باقی ماندہ 20 فیصد ہلاک شدگان 45 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد ہوتے ہیں۔ایشین ٹرانسپورٹ آبزرویٹری کے مطابق پاکستان میں ہر سال جتنے بھی شہری سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں، ان میں سے تقریبآ ایک چوتھائی تعداد خواتین یا بچیوں کی ہوتی ہے جبکہ مجموعی طور پر 41 فیصد ہلاک شدگان ایسے راہ گیر ہوتے ہیں، جو خود کسی سواری میں سفر نہیں کر رہے ہوتے مگر پھر بھی پیدل چلتے ہوئے حادثات کی زد میں آ جاتے ہیں۔اپنی آبادی میں تیز رفتار اضافے کا سامنا کرنے والے پاکستان میں سڑکوں کی مجموعی حالت اور ان پر چلنے والی ٹریفک کی صورت حال تسلی بخش قرار نہیں دی جاتی۔ پھر بہت سے ڈرائیور ٹریفک قوانین کا احترام بھی نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ کہ ہر سال جتنے بھی پاکستانی ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں، ان میں سے بہت بڑی تعداد موقع پر ہی دم توڑ دیتی ہے۔پاکستان نے اپنے سڑکوں کے نظام کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے 2018 میں ایک نیشنل روڈ سیفٹی اسٹریٹیجی بھی تیار کی تھی۔ یہ حکمت عملی 2030 تک بارہ سال کے عرصے کے لیے تیار کی گئی تھی تاکہ ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات اور زخمیوں کی تعداد دونوں کو واضح طور پر کم کیا جا سکے۔لیکن یہ اسٹریٹیجی اب تک کتنی مؤثر ثابت ہوئی ہے، اس بارے میں حقائق جاننے کے لیے ڈی ڈبلیو نے پاکستانی شاہراہوں کی منتظم نیشنل ہائی وے اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تعلقات عامہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سبطین رضا لودھی نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ''پاکستانی شاہراہوں پر سلامتی امور کا نگران ادارہ نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس ہے، جس کے ہزاروں اہلکار پورے ملک میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی یا NHA شاہراہوں کی تعمیر و مرمت سمیت کئی دیگر کام بھی کرتی ہے۔لیکن 25 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں روڈ نیٹ ورک بہت وسیع ہونے کے باوجود اس پر ٹریفک کا لوڈ بہت زیادہ ہے۔ ‘‘ان کا مزید کہنا تھا، ''نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس کے اہلکار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر چالان کرتے ہیں، جرمانے کرتے ہیں، دیگر قانونی کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں، لیکن حالات ابھی تک بہتری کی جانب بڑھتے دکھائی نہیں دے رہے