محمدفاروق سپرا
پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی روح اس کے دیہات میں بستی ہے۔ کسی دور میں دیہی زندگی سکون، ہریالی، خالص غذا اور باہمی ہمدردی کا استعارہ سمجھی جاتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہوئی سماجی اور معاشی ترجیحات نے دیہی زندگی کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کا دیہاتی زندگی پر سکون کے بجائے پریشانیاں غالب ا?چکی ہیں۔ اس تبدیلی کے پیچھے کئی سنگین عوامل کارفرما ہیں۔
دیہی معیشت کا سارا دارومدار زمین پر تھا۔ ماضی میں ایک بڑے خاندان کے پاس وسیع رقبہ ہوتا تھا جس پر کھیتی باڑی سے نہ صرف ان کا گھر چلتا تھا بلکہ وہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کرتے تھے۔ان زمینوں کو ٹھیکے پردینے سے دیگرکئی خاندانوں کے روز گارکاسبب بھی بن جاتاتھا۔ لیکن وراثت کے قوانین اور نسل در نسل زمینوں کی تقسیم نے اس نظام کو کمزور کر دیا ہے۔تقسیم درتقسیم کے اس عمل نے زمینوں پر انحصار کرنے والے دیگر خاندانوں کے لیے روز گاربھی ختم کردیاہے۔
جب ایک بڑی زمین چار بیٹوں میں تقسیم ہوتی ہے اور پھر ان کے آگے بچوں میں بٹتی ہے، تو وہ زمین کا ٹکڑا اتنا چھوٹا رہ جاتا ہے کہ اس پر جدید مشینری کا استعمال یا بڑے پیمانے پر کاشتکاری ممکن نہیں رہتی۔ "سمٹتی ہوئی زمینوں" نے کسان کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے، کیونکہ اب چھوٹی زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی پورے خاندان کی کفالت کے لیے ناکافی ہے۔
شہروں اور دیہات کے درمیان ترقی کا عدم توازن دیہی زندگی کی مشکلات کا سب سے بڑا سبب ہے۔ آج بھی پاکستان کے کئی دیہاتوں میں معیاری تعلیم کے لیے ہائی سکول یا کالج موجود نہیں ہیں۔ دیہی نوجوان جو پڑھنا لکھنا چاہتے ہیں، انہیں شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں کے اخراجات برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع کا فقدان بھی ایک بڑا المیہ ہے۔ گاؤں میں زراعت کے علاوہ کوئی ایسی انڈسٹری یا ہنر کے مراکز نہیں ہیں جہاں نوجوان اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکیں۔ جب ایک پڑھے لکھے نوجوان کو اپنے گاؤں میں کوئی مستقبل نظر نہیں آتا، تو وہ وہاں سے اکتا کر شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جس سے دیہاتوں میں انسانی وسائل کی کمی ہو رہی ہے۔
دیہی زندگی میں امارت اور غربت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے سماجی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک طرف وہ بڑے جاگیردار اور زمیندار ہیں جو سیاست اور وسائل پر قابض ہیں، اور دوسری طرف وہ بے زمین ہاری یا چھوٹے کسان ہیں جو صبح سے شام تک خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں۔
معاشی ناہمواری کی وجہ سے غریب طبقہ بنیادی ضروریاتِ زندگی جیسے کہ صاف پانی، صحت کی سہولیات اور بجلی سے بھی محروم ہے۔ جب ایک ہی گاؤں میں ایک محل ہو اور دوسری طرف کچی جھونپڑیاں، تو وہاں احساسِ محرومی اور سماجی بے چینی جنم لیتی ہے، جو دیہی زندگی کے روایتی پیار اور بھائی چارے کو ختم کر رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں دیہات سے غیر قانونی اور قانونی طریقے سے بیرون ملک ہجرت کا رجحان شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ مقامی سطح پر مواقع کی کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ جب زراعت منافع بخش نہیں رہتی اور کوئی نوکری نہیں ملتی، تو نوجوان مایوسی کا شکار ہو کر اپنی آبائی زمینیں اور زیورات بیچ کر ایجنٹوں کو پیسے دیتے ہیں تاکہ وہ یورپ یا خلیجی ممالک جا سکیں۔
• گھر کی کفالت اور بہن بھائیوں کی شادیوں جیسے سماجی دباؤ نوجوانوں کو ہر قیمت پر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔اس رجحان نے جہاں کچھ خاندانوں کو خوشحالی دی ہے، وہاں "برین ڈرین" اور انسانی جانوں کے ضیاع (جیسے کشتی کے حادثات) کی صورت میں بڑے زخم بھی دیے ہیں۔ گاؤں کے گاؤں نوجوانوں سے خالی ہو رہے ہیں، اور پیچھے صرف بوڑھے اور بچے رہ گئے ہیں۔
آج کے جدید دور میں بھی بہت سے دیہات سڑکوں کی ناقص صورتحال، ہسپتالوں کی کمی اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ شہروں میں رہنے والے لوگ جن سہولیات کو اپنا حق سمجھتے ہیں، دیہات کے لیے وہ آج بھی ایک خواب ہیں۔ ہنگامی صورتحال میں کسی مریض کو شہر کے بڑیاسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ دینا دیہی زندگی کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
دیہی زندگی کی مشکلات محض معاشی نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی مسئلہ بن چکی ہیں۔ زمینوں کی تقسیم، تعلیمی پسماندگی، معاشی ناہمواری اور بیرون ملک ہجرت کی دوڑ نے دیہات کے پرسکون ماحول کو اضطراب میں بدل دیا ہے۔
اگر حکومت دیہی سطح پر چھوٹی صنعتیں لگائے، زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑے اور تعلیم و صحت کے مساوی مواقع فراہم کرے، تو دیہات سے شہروں اور بیرون ملک کی طرف ہجرت کے سیلاب کو روکا جا سکتا ہے۔ دیہی زندگی کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ہمیں کسان کو مضبوط اور نوجوان کو ہنر مند بنانا ہوگا۔