کراچی میں 7 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ملزمان کے تکلیف دہ انکشافات

کراچی میں 7 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ملزمان کے تکلیف دہ انکشافات

کراچی کے لانڈھی علاقے میں 7 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے کیس میں گرفتار ملزمان سہیل اور حسن نے تفتیش کے دوران لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں۔

 جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں دونوں ملزمان نے اپنے اعترافی بیانات ریکارڈ کرائے ہیں۔ملزم حسن نے بتایا کہ وہ گوشت کا کام کرتا ہے اور 18 ستمبر کو باڑے کے قریب موجود تھا، جہاں سہیل بھی تھا۔ بچے کے اپنی خالہ کے گھر سے باہر نکلنے پر سہیل نے اسے چیز دلوائی اور باڑے میں لے گیا۔ وہاں بچے کو جانور دکھائے اور پھر کمرے میں لے جا کر دونوں نے باری باری زیادتی کی۔بعد ازاں، بچے کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کے اوپر کپڑا ڈال دیا تاکہ آواز نہ نکلے۔ سہیل نے بچے کو کمرے سے باہر نکال کر جوتے کے فیتے سے گلا دبایا اور بلاک مارا، جس سے بچے کی موت ہوگئی۔ لاش کو بھوسے کے کٹے میں ڈال کر گندی گلی میں پھینک دیا۔

ملزم حسن کا مزید کہنا تھا کہ سہیل اپنے گھر سے ایک قالین بھی لایا، جسے لاش کے اوپر رکھا گیا۔ بدبو کی وجہ سے تین دن بعد لوگوں نے لاش تلاش کی، جس کا علم انہیں تھا، مگر پولیس نے پھر بھی انہیں گرفتار کر لیا۔ملزم سہیل نے اعتراف کیا کہ وہ بچے کو باڑے میں لے کر گیا اور پہلے حسن نے زیادتی کی، پھر سہیل نے مارا اور لاش گندے نالے میں پھینک دی۔عدالت نے دونوں ملزمان کے اعترافی بیانات کو ریکارڈ پر لے لیا ہے۔