ایران کی وارننگ: مقررہ بحری راستے سے ہٹنے والے جہاز کو سنگین نقصان کا خدشہ

ایران کی وارننگ: مقررہ بحری راستے سے ہٹنے والے جہاز کو سنگین نقصان کا خدشہ

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی جنوبی سمندری حدود میں ایرانی سکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی جہاز کو سنگین نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 انہوں نے بحری جہازوں کو مقررہ راستوں پر رہنے اور ایرانی ضوابط کی پابندی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خلاف ورزی کی صورت میں جہاز خود کو خطرے میں ڈالیں گے۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق میجر جنرل علی عبداللہی نے پیر کو بحیرۂ عمان کے ساحلی علاقے کے دورے کے دوران یہ بیان دیا۔ اس موقع پر انہوں نے جنوبی سمندری حدود میں سکیورٹی انتظامات اور بحری آمدورفت کی نگرانی سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ایرانی فوجی سربراہ نے کہا کہ مقررہ بحری راستوں سے ہٹنے یا ایرانی سکیورٹی ضوابط کو نظرانداز کرنے والے کسی بھی جہاز کو، اس کے اقدام کی وجہ سے قطع نظر، سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی سمندری حدود میں محفوظ آمدورفت کے لیے مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہے۔

آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں نگرانی سخت

میجر جنرل علی عبداللہی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاسداران انقلاب خلیج فارس کے ساحلی علاقوں، جزائر اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان علاقوں میں ہونے والی بحری آمدورفت کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ سے عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔اس گزرگاہ میں بحری نقل و حرکت متاثر ہونے کی صورت میں تیل کی عالمی سپلائی، سمندری تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطے کے ممالک کے علاوہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بیان سامنے آگیا

ایرانی فوجی سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور علاقائی کشیدگی کے باعث اہم بحری راستوں کی سلامتی پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ خطے میں کسی بھی فوجی تصادم یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے اثرات عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔موجودہ صورت حال میں خلیج فارس، خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت، سکیورٹی انتظامات اور سمندری راستوں کے تحفظ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ایران کی جانب سے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سنگین نقصان پہنچنے کی وارننگ نے بھی ان سمندری حدود میں سکیورٹی کے معاملے کو نمایاں کردیا ہے۔تاہم ایرانی فوجی سربراہ کے بیان میں کسی مخصوص جہاز، واقعے یا ممکنہ کارروائی کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ان کا بیان عمومی انتباہ کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں ایرانی حکام نے جنوبی سمندری حدود میں مقررہ راستوں اور سکیورٹی ضوابط کی پابندی پر زور دیا ہے۔