رفیع احمد
پاکستان میں منشیات کا استعمال تیزی سے بڑھتا جارہا ہے، ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد سالانہ 560، ارب کی منشیات استعمال کرکے اپنی قیمتی جانیں اور محنت سے کمایا ہوا پیسہ ڈرگ مافیا کے حوالے کر دیتے ہیں،المیہ کی بات ہے کہ منشیات کی روک تھام میں حکومت کی واضح پالیسی اور سخت قوانین نہ ہونے کی وجہ سے نسلوں کی نسلیں تباہ و برباد ہورہی ہیں،ہمیں ہر جگہ منشیات کے عادی افراد کی زندہ لاشیں نظر آرہی ہیں کیونکہ منشیات کے عادی افراد کا علاج ناممکن ہے، انسدادِ منشیات کے نام نہاد ہسپتال دونوں ہاتھوں سے متاثرہ خاندانوں کو لوٹ رہے ہیں۔
موت کے سوداگر اپنے کالے دھندے کو نہایت ہی خفیہ طریقے سے اپنی لیبارٹریز میں نت نئے طریقوں سے نشہ تیار کر کے اس قوم کو نہایت ہی تیزی سے اس کا عادی بنا رہے ہیں اس کا بھیانک انجام صرف موت ہے۔ پاکستان میں کرسٹل آئس اور الیکٹرونکس سگریٹ یعنی Vape ان کا شمار مصنوعی نشوں میں ہوتا ہے، یہ اب تیزی سے عام ہوچکا ہے،ایسے نشوں کا آخری انجام کینسر، جسم کا لاغر پن، یاد داشت کی کمزوری ،خود کشی کا بڑھتا رجحان اور قتل سے بھی دریغ نہ کرنا ہے۔ نوجوانوں میں نشہ پھیلنیکی شرح 52 فیصد تک جاپہنچی ہے۔ منشیات فروش ان نشوں کو ہمارے تعلیمی اداروں میں باآسانی پہنچا چکے ہیں ? عالمی ادارے صحت کی رپوٹ کے مطابق 13 سے 17 سال کی عمر کے نوجوان نشے کی لت میں پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ الیکٹرونکس سگریٹ کی دکانیں تعلیمی اداروں کے قریب کھلتی جارہی ہیں سونے پہ سہاگا پان شاپس سے بھی بآسانی خریدی جاسکتی ہیں ?
ہمارا پڑوسی ملک افغانستان دنیا میں منشیات فروغ کرنے میں سہرفرست ہے ،اسی وجہ سے ہمارے ہاں چرس ، ہیروئن اور دیگر نشے بآسانی مل جاتے ہیں جبکہ کوکین ,Weed ?کرسٹل آئس، ویپ وغیرہ میانمار ( برما) ، چین اور بعض یورپی ممالک سے بھی پہنچائی جاتی ہے۔ منشیات کا بد قسمتی سے سدباب نہ ہونے کی وجہ سے شہر کراچی منشیات کی سپلائی میں انٹر نیشنل حثیت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ سال کی رپوٹ کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری کا منشیات فروش ریاست علی خان جدگال روز آنہ 50، لاکھ روپے کی منشیات کا دھندہ کرتا رہا ہے، اگر منشیات فروشوں کا نیٹ ورک ختم نہ کیا گیا تو یہ شہر ‘‘عالمی منشیات کا گڑھ’’ کہلائے گا۔ پاکستان میں شراب نوشی بھی عام ہوتی جارہی ہے، اس میں جگر اور معدہ کے کینسر کے علاوہ بے حیائی کا لازمی عنصر بھی موجود ہے۔ قانونی و غیر قانونی وائن شاپس میں باآسانی دستیاب ہے یہ قوم سالانہ 130،ارب روپے کی پی جاتی ہے جبکہ اسمگلنگ کی ہوئی شراب کی مالیت اس سے بھی زیادہ ہے۔
پاکستان سے منشیات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے’’گرینڈ آپریشن ‘‘ کی ضرورت ہے۔پوری قوم کو سنجیدہ اور سیسہ پلائی دیوار بننا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ جلدازجلد افغان باشندوں کو باعزت طریقے سے ان کے ملک روانہ کرے،اس سے یقیناً کچھ عرصے میں پاکستان میں منشیات کی طلب و رسد میں نمایاں کمی واقع ہوگی، پاکستان کی وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں ، اینٹی نارکوٹکس فورس ، پاکستان کوسٹ گارڈ ،کسٹم ،پولیس و دیگر سرکاری ایجنسیاں، سیاسی، مذہبی و سماجی تنظیمیں، پرنسپلز ، اساتذہ ، طلبا اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اپنا اپنا بھر پور کردار ادا کریں تو ہم بہت جلد ہی اپنی ‘‘غیور قوم" کو اس نشی دلدل سے نکال سکتے ہیں۔