عید الفطر 30 مارچ کو ہونے کا امکان بھی موجود ہے

عید الفطر 30 مارچ کو ہونے کا امکان بھی موجود ہے

عید الفطر 2025 کی تاریخ کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن 30 مارچ کو عید کے ہونے کا امکان زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔

 29 مارچ کو رمضان کے 29 دن مکمل ہو جائیں گے، اور قمری مہینہ 29 دن کا بھی ہو سکتا ہے اور 30 دن کا بھی۔ اگر 29 مارچ کو کسی نے چاند دیکھنے کا دعویٰ کیا، تو اس کے بعد عید کا چاند دیکھنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے اور عید 30 مارچ کو ہو سکتی ہے۔عید الفطر 2025 کے چاند کی رویت پر ہر سال کی طرح اس بار بھی تنازعہ پیدا ہو رہا ہے۔ ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ 29 مارچ کو چاند کا نظر آنا بعید از امکان ہو گا، مگر سعودی عرب عید 30 مارچ کو منانے کا اعلان کر سکتا ہے۔ قطر کیلنڈر ہاؤس اور برطانیہ کے ناٹیکل المانک آفس کے مطابق سعودی عرب اور برطانیہ میں 29 مارچ کو چاند کا نظر آنا ممکن نہیں، چاہے جدید دوربینیں استعمال کی جائیں۔سعودی عرب کی رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے کے پیشِ نظر کئی مسلم ممالک عید کا اعلان سعودی عرب کے ساتھ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب سعودی عرب کے چاند دیکھنے کے دعووں پر سوالات اٹھائے گئے ہوں۔ 2023 میں کویتی ماہرِ فلکیات عادل السعدون نے سعودی عرب کے چاند دیکھنے کے دعووں پر چیلنج کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر کسی نے چاند دیکھا ہے تو اس کی تصویر بطور ثبوت پیش کی جائے۔ اسی طرح 2024 میں بھی سعودی اعلان پر اختلافات تھے، اور کئی ممالک نے سعودی اعلان کو مسترد کر دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق سعودی عرب میں Umm al-Qura کیلنڈر پر پہلے سے عید کی تاریخ طے ہوتی ہے، جس پر فیصلہ اکثر فلکیاتی شواہد کے برعکس لیا جاتا ہے۔ ترکی بھی یہی طریقہ اپناتا ہے، مگر وہ حسابات کے مطابق عید کا اعلان کرتے ہیں، بغیر یہ کہے کہ چاند دیکھا گیا ہے۔برطانیہ میں بھی مسلم کمیونٹی سعودی عرب کی پیروی کرتی ہے، مگر بہت سے لوگ اب انگلینڈ میں چاند دیکھنے کے بعد عید کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ نیو کریسنٹ سوسائٹی کے بانی عماد احمد کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں چاند دیکھنے کی روایت ہونی چاہیے۔سعودی عرب کی حکومت نے ہمیشہ ان الزامات پر خاموشی اختیار کی ہے کہ وہ سائنسی طور پر ناممکن چاند کو بھی دیکھنے کا اعلان کر دیتی ہے۔ تاہم، اگر اس بار سعودی رویتِ ہلال کمیٹی نے 29 روزے کے بعد ہفتے کی شام چاند نظر آ جانے یا نہ آنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا، تو یہ پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دے گا اور آئندہ کے لیے ایک نئی مثال قائم کر سکتا ہے۔