سرکاری ملازم مرضی کے مقام پر ڈیوٹی کا مطالبہ نہیں کر سکتا: لاہور ہائیکورٹ

صرف 8 دن میں تبادلہ ہونا غیر قانونی نہیں جب تک انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہو، عدالتی مداخلت نہیں کی جا سکتی
لاہور(آئی این پی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق فیصلہ جاری  کیا ہے  سرکاری ملازم اپنی مرضی کے مقام پر فرائض ادا کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا، سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے بلڈنگ انسپکٹر عمران ارشاد کے تبادلے کے خلاف چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، دوران سماعت درخواست گزار بلڈنگ انسپکٹر نے محض آٹھ دنوں کے اندر تبادلے کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا کہ بغیر کسی ٹھوس وجہ اور نوٹس کے اتنی جلدی تبادلہ کرنا انتظامی بدنیتی ہے لہذا تبادلے کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔جسٹس راحیل کامران شیخ نے فیصلے میں لکھا کہ سرکاری ملازم اپنی مرضی کے مقام پر فرائض ادا کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا، سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے، عدالت نے فیصلے میں کہاکہ ملازم اپنی مرضی کے سٹیشن پر رہنے کا دعوی نہیں کر سکتا، صرف 8 دن میں تبادلہ ہونا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں جب تک انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہو، عدالتی مداخلت نہیں کی جا سکتی۔