تاریخی معاہدے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، 18 تجارتی بینکوں اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی شراکت شامل ہے:وزارت خزانہ
صارفین پر کسی اضافی مالی بوجھ کا اطلاق نہیں کیا‘ ادائیگیاں پہلے سے لاگو 3.23 روپے فی یونٹ سرچارج کے ذریعے کی جائیں گی:ترجمان
اسلام آباد (آن لائن) بجلی کے شعبے کو درپیش 1,225 ارب روپے کے گردشی قرضے کے مسئلے کا کامیاب حل نکال لیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی ٹاسک فورس کی قیادت میں ایک تاریخی مالیاتی معاہدہ مکمل کر لیا گیا، جسے وزارت خزانہ نے توانائی کے شعبے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ معاہدے کے تحت صارفین پر کسی نئے بوجھ کے بغیر نظام کو مالیاتی استحکام کی طرف گامزن کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس تاریخی معاہدے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، 18 تجارتی بینکوں اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی شراکت شامل ہے۔ معاہدے کے تحت 660 ارب روپے کے پرانے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی جائے گی جبکہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے لیے 565 ارب روپے کی نئی فنانسنگ بھی فراہم کی جائے گی۔ترجمان وزارتِ خزانہ نے وضاحت کی کہ اس معاہدے میں صارفین پر کسی اضافی مالی بوجھ کا اطلاق نہیں کیا گیا، اور ادائیگیاں پہلے سے لاگو 3.23 روپے فی یونٹ سرچارج کے ذریعے کی جائیں گی۔660 ارب روپے کی خود مختار حکومتی ضمانتیں کھولنے کی راہ بھی ہموار کر دی گئی ہے، جس سے نہ صرف مالیاتی ادائیگیوں کا دائرہ واضح ہوگا بلکہ بینکنگ نظام پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔