آپ زندگیاں بچا کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں: ڈاکٹر رضوان نصیر
لاہور(کرائم رپورٹر)پنجاب ایمرجنسی سروس کے پائنیر ممبران کی ٹیم نے ایمرجنسی سروس میں خدمات کے 21سال مکمل ہونے پر گزشتہ روز ایمرجنسی سروسز ہیڈ کوارٹرز میں تقریب کا انعقاد کیا۔ بانی ایمرجنسی سروسزپاکستان، ڈاکٹر رضوان نصیر نے انسانیت کے لیے 2دہائیوں سے زائد کی خدمات پر پائنیر ٹیم کے ممبران کے ساتھ کیک کاٹا۔ تقریب میں پائنیر بیج کے افسران اور جوانوں سمیت ایڈمنسٹریٹر ایمرجنسی سروسز، ڈویزنل ایمرجنسی آفیسر، ہیڈ آف ونگزاور ایمرجنسی سروسز ہیڈ کوارٹرز اور اکیڈمی کے سینئر افسران نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ اللہ تعالی نے آپ لوگوں کونیک مقصد کے لیے منتخب کیا ہے جس میں آپ زندگیاں بچا کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک بات یاد رکھیں، ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کریں،
کوئی آپ کو دیکھے یا نہ دیکھے، اللہ تعالی کی ذات آپ کو ہر وقت دیکھ رہی ہوتی ہیانہوں نے سروس کے قیام اور ابتدائی دور میں پیش آنے والے مشکل حالات اورچیلنجز کو بھی دوہرایا۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے دیگر افسران کوبتایا کہ پائنیر ٹیم کے ریسکیو جوانوں نے مشکل ترین حالات میں جس ایمرجنسی سروس کے قیام کا بیڑا اٹھایا اس وقت اس کا قیام ناممکن لگ رہا تھالیکن پائنیر ٹیم کی مسلسل جدوجہد اور لگن سے آج پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122) نے 17.2 ملین سے زائد متاثرین کو ریسکیو کیااور 264,117 سے زیادہ آتشزدگی کے واقعات پر بروقت ریسپانس کرتے ہوئے 718 بلین روپے سے زائد مالیت کے نقصانات کوبچایااور اب یہ سروس جنوبی ایشیا کی پہلی یونائیٹڈ نیشن انسراگ سرٹیفائیڈایمرجنسی سروس بن گئی ہے۔ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ''ریسکیو 1122 کی پائینیر ٹیم کے رکن کے طور پر21 سال تک انسانی زندگیاں بچانے والی سروس میں خدمات سرانجام دینا باعث فخر ہے۔انسانیت کی خدمت کے اس طویل سفرمیں مجھے لاتعداد چیلنجز یاد آتے ہیں جن کا ہم نے سامنا کیا۔ تاہم، ڈاکٹر رضوان نصیر کی دور اندیش قیادت کی بدولت ہم اپنی ذمہ داری سے بہتر طریقہ سے عہد ابراہ ہو سکے، اس موقع پرڈویزنل ایمرجنسی آفیسرڈاکٹر فواد شہزاد مرزا اور ایمرجنسی آفیسر محمد اعظم نے کہا کہ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ ہم پائنیر بیج کا حصہ ہیں جس نے بانی ایمرجنسی سروسز پاکستان کی راہنمائی میں ناممکن مشن کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جو کہ بانی ایمرجنسی سروسز پاکستان کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہ تھا