درخواست کیساتھ ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہ میرے پاس جاں بحق ہونے کا ثبوت :جج افضل مجوکا
140کارکن اسلام آباد پولیس کے حوالے، 113 عدالت پیش، 88شناخت پریڈ کیلئے جیل روانہ
اسلام آباد، راولپنڈی (اپنے رپورٹر سے،خبر نگار) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے پی ٹی آئی کے 26 نومبر کو احتجاج پر مبینہ فائرنگ کے باعث زخمیوں اور ہلاکتوں کے معاملہ پر وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کردی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکلاء نے دلائل دیئے، عدالت نے کہا آپ نے درخواست کے ساتھ کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہیں لگایا، وکیل نے کہا جو صورتحال تھی اس حوالے سے بیان حلفی درخواستوں کے ساتھ لگے ہیں،عدالت نے استفسار کیاکہ آپ نے مجسٹریٹ کو درخواست دی تھی قبر کشائی کیلئے،میرے پاس بندہ جاں بحق ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ درخواست گزار کی تھانہ میں بیان ریکارڈ کرانے کیلئے دی گئی درخواست پڑھی گئی، جج افضل مجوکا نے کہا جو درخواست پڑھی اس میں محسن نقوی، شہباز شریف، ودیگر کا نام کہاں ہے؟ وکیل نے کہا ہم نے درخواست میں لکھا کہ ڈاکومنٹس لف ہیں۔ پراسیکیوٹر نے کہا درخواست میں الزامات لگا رہے ہیں پہلے یہ تو ثابت کریں بندہ فوت ہوا ہے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد ازاں درخواست خارج کرنے کا حکم سنا دیا۔ شہری گل خان نے اپنے بیٹے اور دیگر کی مبینہ ہلاکت پر اندراج مقدمہ کی درخواست دی تھی۔ انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا سمیت پانچ اہم رہنمائوں کی احتجاج کے مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے اعظم سواتی کی طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی، پولیس نے سلمان اکرم سے متعلق تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں کہا گیا تفتیش کیلئے ایف آئی کو ریکارڈ کے حصول کیلئے مراسلہ بھجوایا ہے جواب ابھی موصول نہیں ہوا۔ صنم جاوید وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، وکیل نے درخواست ضمانت پر دلائل کیلئے 8 اپریل تک مہلت مانگ لی۔ پراسیکیوشن کے وکیل کے اعتراض پر عدالت نے وکیل صفائی سے دلائل طلب کرلئے۔ بعدازاں عدالت نے تینوں ملزمان کی ضمانت میں 8 اپریل تک توسیع کر کے سماعت ملتوی کر دی۔ رہنماو?ں پر 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صدر حسن ابدال میں مقدمات درج ہیں۔ عدالت میں 26 نومبر کے پرتشدد احتجاج کے مقدمات میں گرفتار تحریک انصاف کے 140 کارکنان کو عدالتی احکامات پر اٹک جیل سے پیش کیا گیا ، عدالت نے کارکنوں کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا اور ایک روز کا راہداری ریمانڈ بھی دے دیا۔ ادھر پی ٹی آئی کے 113 سے زائد ورکرز کو انسداد ِدہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا کے سامنے پیش کیا گیا، عدالت نے 88 ورکرز کو 6 دن کی شناخت پریڈ کیلئے جیل بھیجتے ہوئے 26 کارکنان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیئے۔ وکلاء صفائی نے بتایا پیش کیے گئے ورکرز میں سے 26 کی روبکار جاری ہوچکی۔ جج طاہر عباس سپرا نے کہا جن کی روبکار جاری ہوچکی انکی رہائی ہوگی۔ عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ ترنول اور کوہسار کے مقدمات میں ملزمان کو شناخت پریڈ کیلئے جیل بھیجا ہے۔ ان ورکرز کو انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے اسلام آباد پولیس کی درخواست پر حوالے کیا تھا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں زیر سماعت اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کیس میں گرفتار پی ٹی آئی کارکن حیدر سعید کی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری میں مقدمہ کا ریکارڈ طلب کرلیاگیا، جج محمد افضل مجوکا نے کہا میں فائل مجسٹریٹ کے پاس بھجوا دیتا ہوں وہی سنیں گے،عدالت نے ملزم کے وکلا کو آگاہ کر دیا، جس کے بعد ڈیوٹی جج شہزاد خان نے درخواست پر سماعت کی اور کہا ریکارڈ منگوا لیتا ہوں، پیر کو سن لیں گے۔ سماعت 24 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔