ویب ڈیسک: بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں ہونے والے آئندہ ریاستی انتخابات سے قبل انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جن سے نہ صرف انتخابی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ اقلیتوں کے جمہوری حقوق کے حوالے سے بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
بغیر قانون سازی کے نیا این آر سی نافذ
رپورٹس کے مطابق مودی حکومت نے ریاست بہار میں بغیر کسی باقاعدہ قانون سازی کے نیا این آر سی (قومی رجسٹر برائے شہریت) نافذ کر دیا ہے، جسے ماہرین منظم انتخابی دھاندلی کی تیاری قرار دے رہے ہیں۔مسلم اکثریتی ریاست بہار میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے دوران لاکھوں افراد کو ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
دستاویزی ابہام کے ذریعے ووٹرز کو نشانہ
مودی حکومت پر الزام ہے کہ وہ دستاویزی ابہام کو بنیاد بنا کر شہریوں کو ووٹر لسٹ سے نکال رہی ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی، اور راشن کارڈ جیسے عام شناختی دستاویزات کو شہریت کا معتبر ثبوت ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن میں تضاد
بھارتی اخبار دی وائر کے مطابق سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن نے شہریت کا ثبوت طلب کرنے کا اختیار مانگا، لیکن عدالت عظمیٰ نے یہ واضح کیا کہ شہریت کا تعین وزارت داخلہ کا دائرہ اختیار ہے، نہ کہ الیکشن کمیشن کا۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 326 کے تحت صرف "اہل ووٹرز" کے اندراج اور "غیر اہل" افراد کے اخراج کا مجاز ہے۔
اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا خدشہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دراصل مسلم اکثریتی علاقوں کو انتخابی عمل سے باہر کرنے کی منظم کوشش ہے۔انتخابی فہرستوں میں رد و بدل، دستاویزی ابہام، اور شہریت کے مشکوک ضوابط کے ذریعے رائے دہی کے حق کو سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو بھارت کے جمہوری دعووں پر کاری ضرب ہے۔
عالمی سطح پر تنقید
بھارت، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، اب اپنے ہی جمہوری نظام میں اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارتی الیکشن کمیشن کے حالیہ اقدامات نہ صرف آئینی حدود سے تجاوز ہیں بلکہ اس کے غیر جانبدار ہونے پر بھی سوالیہ نشان لگا چکے ہیں۔