چالانز کی وصولی اور گاڑیوں کے اصل مالکان تک رسائی میں مشکلات کا سامنا
جمشید کے نام پر1ہزار 743 گاڑیاں رجسٹرڈ ،ای چالان کی مد میں 28لاکھ واجب الادا
لاہور(کرائم رپورٹر)محکمہ ایکسائز کی اوپن رجسٹریشن پالیسی ٹریفک پولیس کے لیے دردِ سر بن گئی۔شہر میں ایک ہی شہری کے نام پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں گاڑیوں کی رجسٹریشن کا انکشاف ہوا ہے، جس کے باعث ای چالانز کی وصولی اور گاڑیوں کے اصل مالکان تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہیٹریفک پولیس کی جانب سے دورانِ چیکنگ سامنے آنے والے ریکارڈ کے مطابق متعدد افراد کے نام پر غیر معمولی تعداد میں گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ سرکاری مراسلے کے مطابق ایم جمشید نامی شہری کے نام پر ایک ہزار 743 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، جن پر 2 ہزار 295 ای چالانز واجب الادا ہیں جبکہ بقایا رقم 28 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہیاسی طرح باز محمد کے نام پر 421 گاڑیاں رجسٹرڈ پائی گئیں جن پر ایک ہزار 500 سے زائد ای چالانز اور 21 لاکھ روپے سے زائد واجبات ہیں۔ یوسف علی کے نام پر 69 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، جن پر 368 ای چالانز اور تقریباً 5 لاکھ 90 ہزار روپے کی رقم بقایا ہیمراسلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایک ہی شخص کے نام پر بڑی تعداد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن نہ صرف ای چالانز کی وصولی میں رکاوٹ بن رہی ہے بلکہ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سنگین خدشات پیدا کر رہی ہے۔ گاڑی فروخت ہونے کے باوجود بروقت ٹرانسفر نہ ہونے کی وجہ سے اصل استعمال کنندہ تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہیسی ٹی او لاہور عبدالرحیم شیرازی نے اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ ایکسائز کو تجاویز پر مشتمل مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔ تجاویز میں ایک شخص کے نام پر رجسٹر ہونے والی گاڑیوں کی تعداد محدود کرنے، جبکہ کمپنیوں، بینکوں، لیزنگ کمپنیوں اور بڑے اداروں کے لیے الگ پالیسی مرتب کرنے کی سفارش کی گئی ہیمزید برآں مراسلے میں تجویز دی گئی ہے کہ ای چالانز یا دیگر سرکاری واجبات کے نادہندگان کے نام پر نئی گاڑی کی رجسٹریشن کی اجازت نہ دی جائے، گاڑیوں کی فروخت کے بعد فوری ٹرانسفر کو یقینی بنایا جائے اور محکمہ ایکسائز و ٹریفک پولیس کے درمیان مؤثر ڈیٹا شیئرنگ کا مربوط نظام نافذ کیا جائے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔