ویب ڈیسک – سنگاپور: مشرق وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کے باعث کاروباری ہفتے کے آغاز پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
موجودہ قیمتیں:
برینٹ خام تیل
قیمت: تقریباً 80 ڈالر فی بیرل
تجارتی دن کے دوران قیمت میں واضح اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل
قیمت: 76 ڈالر فی بیرل سے تجاوز
امریکی مارکیٹ میں مانگ بڑھنے اور سپلائی خدشات کے اثرات ظاہر۔
عالمی گیس (LNG)
قیمت: 3.90 ڈالر فی MMBtu (ملین برٹش تھرمل یونٹ)
سرد موسم اور یورپی مانگ میں اضافے کے سبب گیس کی قیمتیں بھی مستحکم۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات:
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جنگی کشیدگی:
اسرائیل–ایران تنازع اور خطے میں امریکی مداخلت کے خدشات نے سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بحری نقل و حمل پر خدشات:
ہرمز آبنائے میں سیکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے آئل شپمنٹس پر اثر پڑ رہا ہے، جس سے مارکیٹ میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
امریکی ذخائر میں کمی:
تازہ رپورٹس کے مطابق امریکی تیل کے ذخائر میں کمی آئی ہے، جس نے قیمتوں کو مزید تقویت دی۔
عالمی معیشت میں بہتری کے آثار:
چین، بھارت اور یورپ کی صنعتی سرگرمیوں میں معمولی بہتری کے باعث تیل کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کی رائے:
توانائی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری رہی تو تیل کی قیمت 85–90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔سرمایہ کار رسک فیکٹرز کے پیشِ نظر توانائی کی مارکیٹ میں مزید سرگرمی دکھا رہے ہیں۔
نتیجہ:
جنگی کشیدگی کے سائے میں عالمی تیل و گیس کی منڈی ایک بار پھر بے یقینی کا شکار ہے۔ قلیل مدت میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، خاص طور پر اگر سپلائی لائنز متاثر ہوئیں یا بڑی طاقتیں تنازع میں مزید الجھیں۔