وطن کی شہ رگ کا سودا نہیں ہوگا

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
دنیاکی سیاست آج ایک ایسے موڑپرآکھڑی ہے جہاں قوموں کی تقدیریں صرف جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ سفارت کے ایوانوں،معیشت کے زینوں اوراتحادکی فصیلوں پرلکھی جارہی ہیں۔یہ وہ وقت ہے کہ جب برصغیرکی فضامیں ایک نیاطوفان اٹھ رہا ہیاوریہ طوفان محض ہواکاجھونکا نہیں ،بلکہ وہ آندھی ہے جوکمزورخیموں کواکھاڑپھینکتی ہے اورمضبوط قلعوں کی دیواروں کومزیدسخت کردیتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی قوت کے سرچشموں کوبیدارکرتی ہیں،تو دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں بھی ان کے قدموں میں جھک جاتی ہیں۔ 
دورِحاضرکے ہنگامہ خیزمنظرنامے میں،جہاں قوموں کی تقدیریں ایک لمحے میں پلٹ جاتی ہیں اورجہاں سفارت کے دبیزپردوں کے پیچھے معرکے لڑے جاتے ہیں،ایک تازہ باب رقم ہواہے۔اس باب کے مرکزی کرداروہ مردِمیدان ہیں جن کی نگاہ زمان ومکان کی قیدسے آزاداورجن کے قدم حالات کی دھندمیں بھی سمت پہچانتے ہیں۔
اسی منظرنامے میں حالیہ دنوں ایک نیاباب کھلاہے۔دہلی کی فضاں میں غیرمعمولی ارتعاش اس وقت محسوس ہواجب خودبھارت کے عسکری ایوانوں سے یہ صدااٹھی کہ ملک کی حفاظت صرف بندوق اوربارودکاکھیل اورتلوارکی دھارنہیں،بلکہ معیشت کی مضبوطی،سیاست کی بصیرت اورعوام کااعتمادبھی اس کے قلعے کی فصیلیں ہیں۔نئی دہلی میں طوفان اس وقت اٹھاجب خودبھارت کے عسکری حلقوں سے ایک غیرمعمولی صدابلندہوئی۔دہلی کے عسکری حلقوں سے ابھرنے والی یہ صدامعمولی نہیں۔انڈین فوج کے سابق اورموجودہ جرنیلوں نے صاف کہہ دیاکہ ملک کی سلامتی محض توپ اورتلوارکاوظیفہ نہیں،بلکہ سیاست ومعیشت کی ہم آہنگی اورعوامی اعتمادکا مرہونِ منت ہے۔یہ پیغام مودی سرکارکے ان ایوانوں تک جاپہنچاجہاں اقتدارکاغرور حق کی آوازکودبانے کی کوشش کرتاہے۔یہ جملہ سیدھامودی حکومت کے سنگین کانوں تک پہنچاوہ حکومت جواپنے غرورِاقتدارکے نشے میں اپنی ہی صفوں کی صدابھی برداشت نہیں کر پاتی۔یہ تنبیہ سیدھی مودی کے دربارتک پہنچی،جہاں سیاسی خودپسندی اورتکبرکاغبارچھٹنے کانام نہیں لیتا۔
اسی دوران،پاکستان کے سپہ سالارفیلڈمارشل جنرل عاصم منیر،ڈیڑھ ماہ میں اپنادوسرادور امریکامکمل کرکے لوٹے ہیں۔یہ محض ملاقاتوں کاسفرنہ تھایہ تعلقات کی ازسرِنوتعمیرکااعلان تھا۔اس سفرنے دونوں ملکوں کے تعلقات کی کایاپلٹ دینے والے اشارے دیے ہیں۔امریکی عسکری مرکزسینٹکام کے ٹمپاہیڈکوارٹرمیں کمانڈرکی تبدیلی کی اعلی تقریب میں جنرل منیرکی بطورمہمانِ خصوصی شرکت،ایک نئی فوجی قربت اورتعاون کی لہرکامظہرتھی۔یہ دورہ محض عسکری سلام وکلام نہیں تھا،بلکہ ایک نئے اعتماد،نئے رابطے اورنئی راہوں کااشاریہ تھا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے اعتماد کی ایک علامت تھی۔وہاں جنرل مائیکل کوریلانے پاکستانی جنرل کے کردارکوخراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے پاک-امریکاعسکری روابط میں نئی جان ڈالی۔جنرل عاصم منیرکابطورخصوصی مہمان،استقبال اورجنرل مائیکل کوریلا کاخراج تحسین پیش کرنااس بات کااعلان تھا کہ پاکستان عالمی بساط پرایک مضبوط،باوقار اور متحرک کرداراداکررہاہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ میں اس دورے کومحض عسکری ملاقات نہیں بلکہ ایک"تعمیرِنو"کے سفرکاسنگِ میل قراردیاگیاہے۔بلوم برگ کی رپورٹ نے اس ملاقات کوتعلقات کی تعمیرِنو کاسنگِ میل قراردیا،اوریہ دورے پاک-امریکا تعلقات کوایک پائیداراورمثبت سمت میں ڈالنے کیلئیہیں۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق کہ یہ دورہ ایک نئی جہت کاسنگِ میل ہے۔یہ تعلقات کوپائیداراورمثبت سمت میں ڈالنے کی کوشش ہیںاورمستقبل میں ممکنہ تجارتی معاہدے پاکستان کی معیشت کیلئے ایک نیاافق کھول سکتے ہیں۔خودفیلڈمارشل منیرکے مطابق یہ دورے تعلقات کوایک تعمیری،پائیداراورمثبت راستے پرگامزن کرنے کی کوشش ہیں اورمستقبل میں امریکاکے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے بھاری سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتے ہیں۔اوریہ تجارتی معاہدے پاکستان کی معیشت کیلئے کسی بارشِ رحمت سے کم نہیں۔
یہ خوش خبریاں اپنی جگہ،مگرافق پرخطرات کے بادل اب بھی چھائے ہیں۔یہ سب سفارتی گرمی کے بیچ بھی خطے کاآسمان کسی طوفانی بادل سے خالی اورپرامن نہیں۔جنرل منیرکا برملاانتباہ واضح تھاکہ بھارت نے خطے کوخطرناک جنگ کے دہانے پرلاکھڑا کیاہے،اورپاکستان ہرجارحیت کامنہ توڑجواب دے گا۔ان کاانتباہ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں کی عکاسی کرتاہے۔ انہوں نے یاددلایاکہ کشمیرنہ بھارت کا"’’ندرونی معاملہ‘‘ہے اورنہ کبھی ہوگا۔یہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈاہے،ان کے الفاظ میں قائداعظم محمد علی جناح کاوہ عزم جھلکتاہے،جب انہوں نے فرمایاتھا’’کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے‘‘۔
امریکی سینٹکام میں خطاب کے دوران جنرل منیرنے بھارت کے’’وشواگرو‘‘بننے کے دعوے کومحض ایک فریبِ نظرخواب قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیاکہ عملی طورپر وہ خطے کے امن کوسبوتاژ کرنے میں مصروف ہے،حقیقت میں وہ خطے میں عدم استحکام کاسب سے بڑاذریعہ ہے۔ہماری حالیہ سفارتی اورسکیورٹی کامیابیاں اللہ تعالی کی رحمت،قوم کی اجتماعی کاوش،سیاسی قیادت کی دوراندیشی اورافواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کانتیجہ ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ ہم اٹھیں گے یانہیں،بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنی جلدی اورکتنی قوت سے اٹھیں گے۔
ادھرایک اورانڈین جھوٹ نے مودی سرکارکواقوام عالم میں شرمندہ کردیاجہاں انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل اے پی سنگھ نے تین ماہ بعددعوی کیاکہ مئی میں انڈیااور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران انڈیانے پاکستان کے کم ازکم6طیارے مار گرائے تھے۔واضح رہے کہ انڈیاکی جانب سے اب تک کسی قسم کے پاکستانی طیاروں کے گرائے جانے سے متعلق کوئی تصویری یاویڈیوشواہدبھی پیش نہیں کیے گئے جبکہ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیاتھاکہ انڈین فضائیہ کے پانچ گرائے جانے والے طیاروں میں سے تین رفال طیارے تھے جبکہ ایک مگ29لڑاکا طیارہ اورایک ایس یوطیارہ شامل ہے۔
یادرہے کہ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوزکی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعوی کیاگیاتھاکہ ان میں نظرآنے والا ملبہ ایک فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کاہے جوانڈیا کی فضائیہ کے زیراستعمال ہیں۔ان میں سے ایک ویڈیوکی جیولوکیشن سے بی بی سی ویریفائی کوعلم ہواتھاکہ یہ انڈین ریاست پنجاب میں بھٹنڈہ کے مقام کی ہے۔اس ویڈیومیں یونیفارم میں ملبوس اہلکارلڑاکا طیارے کاملبہ اکھٹاکرتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔دوسری جانب چین کے ایک معتبرتھنک ٹینک نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے تین ماہ بعددینے والے بیان کونہ صرف مضحکہ خیزقراردیابلکہ ٹھوس شواہدسے مستردکردیااوراب عالمی دفاعی ماہرین بھی اس جھوٹی خبرکومودی کی نئی تذلیل قراردے رہے ہیں۔ 
اس سب کے بیچ،جہاں بھارت کی خفیہ ایجنسی’’را‘‘کے عالمی سطح پرپھیلائے گئے جال بے نقاب ہوتے جارہے ہیں وہاں اس کے گھناؤنے منصوبے بھی عیاں ہوتے جارہے ہیں ، کینیڈامیں سکھ رہنماکاقتل،قطرمیں آٹھ نیول افسران کامعاملہ،اورکلبھوشن یادیو جیسے واقعات اس کی زندہ مثالیں اورشواہد ہیں۔
18جون2023کوبرطانوی کولمبیاکے شہرسروں میں واقع گوردوارہ کے پارکنگ لاٹ میں سکھ رہنماہردیب سنگھ نِجارکوگولی مار کرقتل کردیاگیا۔کینیڈین سیکیورٹی ایجنسیزنے بھارتی حکومت کے ایجنٹس کے ممکنہ ملوث ہونیک کی بنیادپرتحقیق شروع کی۔وزیر اعظم جسٹن ٹروڈونے اس واقعے پرشدیدردعمل دیااوربھارت سے تعاون کامطالبہ کیا۔وزیراعظم نے اعلان کیاکہ کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسیاں مضبوط ومصدقہ قابلِ اعتبارالزامات کی بنیادپرتحقیق کررہی ہیں کہ ممکنہ طورپربھارتی حکومت کے ایجنٹس اس قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ 2024میں کینیڈین پولیس نے اس کیس میں تین افرادجن کی شناخت بھارتی نژادشہریوں کے طورپرکی گئی ہے ،کوقتل میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتارکیا۔ تحقیقات جاری ہیں۔
اس پردوطرفہ تعلقات میں تیزی سے تلخی آئی،اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے اپنے سفارتی نمائندوں کاتبادلہ کیابھارت نے کینیڈاکے سفارتی عملے کوبرطرف کیا،اورکینیڈانے بھارت کاہائی کمشنرملک بدرکیا۔کینیڈاکی جاسوس ایجنسی سی ایس آئی ایس نے اس قتل کو’’ٹرانس نیشنل‘‘دباؤاورانتقام کاایک نیادرجہ قراردیااوربھارت کوخارجی مداخلت کاذمہ دار ٹھہرایا۔آسٹریلیا،برطانیہ اور امریکانے بھی اپنی تشویش کااظہارکیااوردونوں ممالک سے بات چیت جاری رکھنے پرزوردیا۔
2022 اگست میں قطرنے8سابق بھارتی نیول افسران کوگرفتارکیا،جنہیںقطرسب میرین پروجیکٹ سے متعلق اسرائیل کیلئے جاسو سی کرنے میں موت کی سزاسنائی گئی جوبھارت کیلئے شدیدصدمہ کاباعث بنی۔وزیرخارجہ ایس جے شنکر اورنیوی چیف نے مقدمے میں بھارت کے شہریوں کیلئے معافی کی درخواست کی۔ دسمبر 2023 میں قطری اپیل کورٹ نے سزاکو مؤخرکردیااورموت کی سزاکوقیدکی مختلف مدتوں میں کم کردیا۔(جاری ہے)