انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ججز نے سابق فلپائنی صدر روڈریگو دوتیرتے کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت قتل کے تین الزامات کی باضابطہ توثیق کر دی ہے، جس کے بعد انہیں باقاعدہ ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 81 سالہ روڈریگو دوتیرتے پر 2011 سے 2019 کے دوران انسدادِ منشیات مہم میں 43 افراد کے ماورائے عدالت قتل کے الزامات عائد ہیں، جو ان کے دورِ حکومت کا سب سے متنازع پہلو رہا۔رپورٹس کے مطابق انہیں 12 مارچ 2025 کو منیلا سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت وہ نیدرلینڈز میں قائم آئی سی سی کے حراستی مرکز میں قید ہیں۔سابق صدر کا مؤقف ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ بین الاقوامی عدالت کے بجائے فلپائن کی مقامی عدالتوں میں چلنا چاہیے، تاہم عالمی عدالت نے مقدمہ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ بھی اہم ہے کہ روڈریگو دوتیرتے پہلے ایشیائی سابق سربراہِ مملکت ہوں گے جنہیں آئی سی سی میں باقاعدہ ٹرائل کا سامنا کرنا پڑے گا، جسے عالمی سطح پر ایک بڑی قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔