جو ڈاکٹر کسی کمپنی کی میڈیسن زیادہ لکھتا ہے اسے بھوربھن کی سیر کرائی جاتی ہے یا باہر بھیجا جاتا ہے
طب کے شعبے میں برسوں سے کھلواڑ ہورہاہے جو لمحہ فکریہ ہے:کراچی میں تقریب سے خطاب
کراچی(آئی این پی)قائم مقام چیف جسٹس آف سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا ہے حکومت سیاسی تقاضے پورے کرتی ہے دیگر شعبوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے،صحت کا شعبہ کمرشل اور بدعنوانیوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے،طب کے شعبے میں برسوں سے کھلواڑ ہورہاہے جو کے لمحہ فکریہ ہے،وہ مقامی ہوٹل میں کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام 5ویں ہیلتھ کئیر سمٹ 2025ء اور ہیلتھ کئیر ایوارڈ دینے کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے،انہوں نے کہا دوائیں لکھنے کے لئے ہر قسم کی پبلک سٹی پر پابندی ہونی چاہئیے،صورتحال یہ بن چکی ہے کہ جو ڈاکٹر کسی کمپنی کی میڈیسن زیادہ لکھتا ہے اسے بھوربھن کی سیر کرائی جاتی ہے اور بیرون ملک سوئزر لینڈ ،جرمنی ودیگر ممالک میں بھیجا جاتا ہے اور انہیں تحفے و تحائف پیش کئئے جاتے ہیں،یہ عمل رشوت کے زمرے میں آتا ہے جو ختم ہونا چاہئیے،انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کے پاس جتنی میڈیسن رجسٹرڈ ہیں اس سے کئیں زیادہ پاکستان میں دوائیں رجسٹرڈ ہیں،حکومت کو رجسٹریشن پر کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت ہے