اگرچہ پولینڈ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کے سب سے بڑے حمایتی ممالک میں شمار ہوتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات مختلف تاریخی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر کشیدہ ہوئے ہیں۔
سب سے اہم تنازع یوکرینی قوم پرست تنظیم (یو پی اے) سے متعلق ہے۔ پولینڈ کا مؤقف ہے کہ یو پی اے نے 1943 سے 1945 کے دوران وولینیا کے علاقے میں تقریباً ایک لاکھ پولش شہریوں کے قتل عام میں کردار ادا کیا، جسے وارسا حکومت “نسل کشی” قرار دیتی ہے۔اس کے برعکس یوکرین میں یو پی اے کے بعض ارکان کو سوویت یونین کے خلاف مزاحمت کرنے والے قومی ہیروز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی بیانیے کا اختلاف برقرار ہے۔حالیہ عرصے میں اس وقت کشیدگی مزید بڑھ گئی جب یوکرینی صدر ولڈیمیر زیلینسکی کی جانب سے ایک فوجی یونٹ کو یو پی اے سے منسوب کیا گیا، جس پر پولینڈ میں شدید ردعمل سامنے آیا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ بڑھ گیا۔پولینڈ طویل عرصے سے وولینیا میں مارے گئے پولش شہریوں کی باقیات کی تلاش اور باقاعدہ تدفین کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ اگرچہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم پولینڈ کے بعض حلقے یوکرین پر اس عمل میں سست روی کا الزام لگاتے ہیں۔
دوسرا بڑا اختلاف روس-یوکرین جنگ کے بعد سامنے آیا، جب لاکھوں یوکرینی مہاجرین پولینڈ منتقل ہوئے۔ ابتدا میں پولینڈ نے بڑے پیمانے پر امداد فراہم کی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بعض حلقوں میں معاشی دباؤ اور سماجی مسائل کے باعث یوکرین مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا۔اس کے علاوہ پولینڈ کے بعض سیاسی رہنما اور عوامی حلقے یوکرین کی یورپی یونین یا نیٹو میں شمولیت کے حوالے سے بھی تحفظات رکھتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ پولینڈ اور یوکرین اب بھی اسٹریٹجک سطح پر اتحادی ہیں، لیکن تاریخی تنازعات اور اندرونی سیاسی دباؤ ان کے تعلقات پر مسلسل اثر انداز ہو رہے ہیں۔