پی ایم یو، لوکل گورنمنٹ الیکشنز کے افسران و اہلکاروں اور دیگر کے خلاف مالی غیر قانونی کارروائیوں کے الزامات کی تحقیقات کا ذکر کیا گیا ہے
ہدایات پر عمل نہ کرنے کو انکوائری کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے، گمراہ کرنے یا ناکام بنانے کی کوشش سمجھا جائے گا، نوٹسز جاری
اسلام آباد(آن لائن)خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں جاری منصوبوں میں کرپشن کے انکشافات سامنے آنے کے بعدنیب خیبر پختونخوا نے تین بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو طلب کرلیا ۔دستاویزات کے مطابق نیب خیبرپختونخوا نے کے پی سٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور خلاف ورزیوں کے حوالے سے جاری تحقیقات کے سلسلے میں مختلف ٹھیکیدار کمپنیوں کے سربراہان کو طلبی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔نیب کے پی کے سے جاری ہونے والے ان نوٹسز میں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو)، لوکل گورنمنٹ الیکشنز اینڈ رورل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران و اہلکاروں اور دیگر کے خلاف مالی غیر قانونی کارروائیوں کے الزامات کی تحقیقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ نوٹس میں ریلائبل-جے ایچ کے(جے وی)اور ای ایس باکو-جے ایچ کے(جے وی)کے مینیجنگ ڈائریکٹر انجینئر عبدالجالل حکیم ولد پرویز خان کو نیب کے دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دوسرے نوٹس میں زیڈ کے بی-ٹی ٹی ایس ایچ-انشآت(جے وی)اور زیڈ کے بی-ایرن-انشآت(جے ویٌکے ڈائریکٹر محمد سلیمان خان کو جبکہ تیسرے نوٹس میں میٹراکان-جے ٹی ای(جے وی)کے جنرل مینیجر جہانزیب کو طلب کیا گیا ہے۔نوٹسز میں واضح کیا گیا ہے کہ الزامات کی نوعیت کے پیش نظر یہ افراد کیس کے حقائق سے واقف ہیں اور ان کی موجودگی انکوائری کے منصفانہ فیصلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔نوٹسز میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کو انکوائری کو دانستہ طور پر نقصان پہنچانے، گمراہ کرنے یا ناکام بنانے کی کوشش سمجھا جائے گا، جس پر سیکشن 31 آف این اے او 1999 کے تحت دس سال تک قید کی سزا کا مقدمہ بنایا جا سکتا ہے۔