بلوچستان میں ہندو برادری کے مذہبی تہوار میں ملک بھر سے یاتری شریک

بلوچستان میں ہندو برادری کے مذہبی تہوار میں ملک بھر سے یاتری شریک

کوئٹہ: بلوچستان کے تاریخی مذہبی مقام ہنگلاج ماتا استھان میں ہندو مذہبی تہوار نوراتری کے موقع پر درگا اشٹمی کی پُروقار تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں ملک بھر سے ہندو یاتریوں نے شرکت کی۔

 مذہبی تقریبات میں سیکڑوں پیدل یاتریوں سمیت ہندو برادری کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جہاں عقیدت مندوں نے مذہبی رسومات ادا کیں۔ہنگلاج ماتا استھان ہندو برادری کے لیے ایک اہم مذہبی مقام کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں مختلف مذہبی مواقع پر ملک کے مختلف علاقوں سے یاتری حاضری دیتے ہیں۔ درگا اشٹمی کی تقریبات کے سلسلے میں بھی بڑی تعداد میں عقیدت مند اس تاریخی مقام پر پہنچے اور مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔تقریبات کے انتظامات کی نگرانی کے لیے بلوچستان کی پہلی ہندو خاتون اسسٹنٹ کمشنر کشش چوہدری کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا۔ انہیں یاتریوں کی سہولت، انتظامی امور کی نگرانی اور تقریبات کے دوران ضروری انتظامات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔حکومت بلوچستان کے خصوصی تعاون سے ہنگلاج ماتا استھان آنے والے ہندو یاتریوں کے لیے مختلف سہولیات فراہم کی گئیں۔ حکام کی جانب سے تقریبات کے انتظامات کیے گئے تاکہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے زائرین اپنی مذہبی رسومات پُرامن ماحول میں ادا کرسکیں۔

اس موقع پر ہندو رہنما اور سینیٹر دنیش کمار نے مذہبی تہوار کے دوران بہترین انتظامات کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے یاتریوں کے لیے سہولیات کی فراہمی اور مذہبی تقریبات کے انعقاد میں تعاون کو سراہا۔درگا اشٹمی کی تقریبات کا پُرامن انعقاد بلوچستان میں مذہبی سرگرمیوں اور مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے مذہبی اجتماعات مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان احترام، برداشت اور باہمی تعاون کے فروغ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ہنگلاج ماتا استھان میں منعقد ہونے والی ان تقریبات میں ملک بھر سے ہندو برادری کی شرکت نے اس مذہبی مقام کی اہمیت کو نمایاں کیا، جبکہ حکومتی انتظامات اور مقامی سطح پر تعاون کے ذریعے یاتریوں کو اپنی مذہبی روایات کے مطابق تقریبات میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا۔