بی جے پی بھارت کو واضح ہندو ریاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے: امریکی کمیشن کی رپورٹ

بی جے پی بھارت کو واضح ہندو ریاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے: امریکی کمیشن کی رپورٹ

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے حال ہی میں بھارت میں مذہبی تعصب اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔

 اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کا سیاسی نظام مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں مذہبی آزادی محدود ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق، حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور رائٹ ونگ تنظیموش (آر ایس ایس) کے تعلقات ملک میں امتیازی قوانین اور پالیسیوں کو ممکن بناتے ہیں۔ یہ قوانین قومی اور ریاستی سطح پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہیں، جن کا مقصد مذہبی اقلیتوں کے حقوق کو محدود کرنا ہے۔ 2014ء کے بعد سے، بی جے پی کی حکومت نے بھارت میں فرقہ وارانہ پالیسیوں کو نافذ کیا ہے، جن سے مذہبی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بی جے پی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کی کوشش میں ہے، اور آر ایس ایس کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔ یہ تنظیم بھارت میں ہندو تہذیب اور مذہب کو فوقیت دینے کے لیے سرگرم ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کے لیے آر ایس ایس کے رضاکار اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور وزیراعظم نریندر مودی بھی ان رضاکاروں میں شامل ہیں۔

مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی کو محدود کرنے کے لیے سخت قوانین اور حکومتی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن سے مذہبی اقلیتیں، خاص طور پر مسلم اور عیسائی کمیونٹیز، متاثر ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کے داخلی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے معیار کے لیے چیلنج پیدا کرتی ہے۔