صلح یاصلہ؟

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
نیوزویک کے ساتھ ایک انٹرویومیں جب انڈیاکے وزیرِخارجہ نے یہ انکشاف کیاکہ اگرہم نے کچھ باتیں تسلیم نہ کیں توپاکستان انڈیاپر بہت بڑاحملہ کرے گا،تویہ جملہ محض ایک سفارتی بیان نہ تھابلکہ وہ ناقوس تھاجوجنگ کے ممکنہ الارم کوبجاگیا۔اس اعتراف میں نہ صرف خارجہ پالیسی کی کمزوری جھلکتی ہے بلکہ یہ سفارتی بھرم کی وہ دراڑہے جس سے سچائی چھلک کرباہرآگئی۔دوسری طرف،جب انڈین دفاعی اتاشی نے نہایت سپاٹ لہجے میںسیاسی رکاوٹوںکی وجہ سے چندطیارے کھونیکااعتراف کیا، توایسامحسوس ہواجیسے کوئی کمانڈراپنے ہی قلعے کی دیواروں میں شگاف دکھارہاہو۔وہ شگاف جواب اپوزیشن کے نعرے نہیں،خود حکومت کے منصب داروں کے لبوں سے ظاہرہورہے ہیں۔کانگریس کے رہنماجے رام رمیش کاالزام کہبی جے پی حکومت نے قوم کوگمراہ کیا،محض ایک سیاسی نعرہ نہیں،بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں سچائی اپناچہرہ دکھارہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ کااعتراف کہ چارروزہ معرکہ آرائی میں انڈین فوج کوخاصانقصان اٹھاناپڑا،اس سچائی کی گویامہرہے جو طویل عرصے سے پسِ پردہ رکھی گئی تھی۔گویاوہی چراغ جل اٹھاجسے بجھانے کی ہزارکوششیں کی گئیں۔جب سوال کیا گیا کہ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے جوبریفنگزدی گئیں،ان میں بارہاذکرآیاکہ انڈین طیاروں کی’’جیمنگ‘‘ہوئی۔یعنی وہ جدیدٹیکنالوجی جس کا دعوی بھارت نے اپنی عسکری برتری کے ثبوت کے طورپرکیاتھا،وہی ٹیکنالوجی اس کے اپنے ہتھیاروں کوگم کردیتی رہی۔
اس کے ساتھ ہی جب انہوں نے یہ تسلیم کیاکہ ہمیں الیکٹرانک وارفیئرکوبہتربنانے کی ضرورت ہے،تودراصل یہ ایک ایساعسکری تجزیہ تھاجس میں ایک قومی کمزوری کاکھلااعتراف چھپاہواتھا۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ، سیاست اورعسکریت ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرسوال کررہے ہیں۔کیایہ وہی بھارت ہے جواپنے عوام کوشائننگ انڈیاکے خواب دکھاتارہا؟کیایہ وہی حکومت ہے جوانتخابات سے قبل قومی غرورکوچمکانے کیلئے جنگی تماثیل پیش کرتی رہی؟آج جب اندرسے آوازآرہی ہے کہ’’ہمیں بہت کچھ کھوناپڑا‘‘توکیایہ اعتراف نہیں کہ قومی فخرکومحض انتخابی سیاست کی بھٹی میں جھونک دیاگیا؟یہ وقت ہے جب حقائق کی روشنی کوچھپانے والے پردے چاک ہوچکے ہیں۔اب نہ توسفارتی الفاظ کی ملمع کاری کچھ چھپاسکتی ہے، نہ عسکری بیانات کی گرداس سچائی کودھندلاسکتی ہے۔برصغیرکے اس خطے میں،جہاں ایک زخم بھی صدیوں کانوحہ بن جاتاہے، یہاں یہ اعترافات کل کی تاریخ کاعنوان اورآنے والے کل کے سبق بن چکے ہیں۔
یادرکھیں!زمانے کے آئینے میں ہم عکسِ ابراہیم ڈھونڈتے ہیں،مگرہرطرف نمرودکی مسکراہٹیں ہیں،کبھی ہم نے آسمان کی طرف دیکھاتھااورستاروں میں توحید کی چمک تلاش کی تھی،مگرآج زمین پرمعاہدے طے ہورہے ہیں جن کی روشنائی میں فلسطین کے یتیموں کے آنسواوریروشلم کے زخمی پتھراپنانوحہ لکھ رہے ہیں۔یہ ابراہیمی معاہدہ نہیں،یہ ابراہیم کی نسبت کا استحصال ہے۔یہ کعبے کے وارثوں کاوہ دست خط ہے جوقبل اول کی تنہائی پرثبت کیاگیاہے۔ کہاں گئے وہ مردانِ صفا؟جن کی آنکھیں قدس کے میناروں میں اذان کی صورت جگمگاتی تھیں؟کہاں گئے وہ لب جو'لبیک یااقصی'کاوردکرتے تھے؟
قرآن پکاررہاہے:اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھامے رہو،اورتفرقہ نہ ڈالو(العمران:103)
مگرآج ہم نے اس رسی کوچھوڑکرتل ابیب کے ریشمی جال تھام لیے ہیں۔حضرت ابراہیم،جن کے قدموں کے نشان صفاپرآج بھی موجودہیں،ان کی سیرت کامرکز’’لاالہ الااللہ ‘‘ تھااورآج انہی کے نام پرمعاہدہ ابراہیم کے سائے میں بیت المقدس کی نیلامی ہورہی ہے۔
اے اہلِ قلم!اے اربابِ ضمیرکیاوقت نہیں آیاکہ تم اپنی تحریروں سے قافلوں کوروک دوجو طاغوت کے سنگ چپ چاپ گزر رہے ہیں؟
اے اہلِ مشرق!کیاتم نے تاریخ کے اس منظرکوبھلادیاجب صلاح الدین ایوبی کی تلوارنے مسجداقصی کی مٹی سے صلیب کی زنجیرتوڑی تھی؟آج وہی مسجد،وہی محراب،وہی قبلہ، اکیلاکھڑاہے،اوراس کے وارث۔۔۔۔۔۔۔معاہدوں کی میزپرگردن جھکائے بیٹھے ہیں۔کیاتمہیں نہیں معلوم کہ:
یہودونصاری تم سے ہرگزراضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو(البقرہ:120)
پھرتم نے رضامندی کے سندکیلئے کن دروازوں پردستک دی؟کیاصلح کی تمنامیں تم نے اپنی غیرت کاخراج ادانہیں کیا؟کیا یہ معاہدہ تمہیں امن دے گا؟یاپھراسی امن کی آڑمیں تمہارے وجودکومسخ کردے گا؟کیاآپ کویاددلانے کی ضرورت ہے کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں حضرت محمدﷺنے معراج کی شب انبیاکی امامت فرمائی تھی،یہ وہی خطہ ہے جہاں حضرت عمرؓبن خطاب اپنے نعلین ہاتھ میں لیے،قدس کی مٹی پرننگے پاں داخل ہوئے تھے، یہ وہی زمین ہے جہاں سجدہ کیاگیاتوزمین مقدس ہوگئی اورآج اسی سرزمین کوسفارتی دستر خوان پرسجادیاگیاہے۔ کیاعمربن خطاب کایہ قول بھول گئے کہ عمرجب فرات کے کنارے ایک کتابھی پیاسامرجائے توامیرالمومنین سے سوال ہوگا۔توکیاآج مسجد اقصیٰ کی آہوں پرامت مسلمہ کی قیادت کاسوال نہ ہوگا؟
یہ تحریرفقط ایک مقالہ نہیں،یہ ضمیرکی دستک ہے۔یہ وہ اذانِ سحرہے جوشبِ غفلت میں لپٹی ہوئی قوموں کو آج کی جگانے آتی ہے۔یہ وہ’’لبیک‘‘ہے جوابھی زبان پرنہیں،مگرقلبِ مومن کے اندرکہیں گونج رہی ہے۔
آئیے!اس گونج کوصدائے احتجاج بنائیں،اس احتجاج کوتحقیق ویقین کالباس پہنائیں اورابراہیمی معاہدے کی تہہ میں چھپے سیاسی،مذہبی،اورتہذیبی جبرکاپردہ چاک کریں کہ ابراہیمی معاہدہ ایک نیاجغرافیائی عمرانی معاہدہ ہے،جس میں مسلمانوںکی سیاسی کمزوری،مذہبی انتشار،اورمعاشی بے وزنی کوخوب خوب استعمال کیاجارہاہے لیکن اگرتاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے،تووہ یہ ہے کہ جبرسے بندے بدلتے ہیں،قومیں نہیں۔اورفلسطین کی سرزمین،تاریخ کے ماتھے پروہ زخم ہے جوہرنئی صلح کے ساتھ زیادہ تازہ ہوجاتاہے۔
 قومیں اپنے ماضی سے آنکھ چرانے لگیں توان کاحال ان پرانتقام بن کرٹوٹتاہے۔ آج اگرسچائی کاسامنانہ کیاگیاتویہ اعترافات آئندہ نسلوں کے ماتھے پر سوال بن کر چمکتے رہیں گے۔