صلح یاصلہ؟

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
2017-2019 کی سعودی ضدِ کرپشن مہم میں تقریبا 381/افراد گرفتار ہوئے اور حکومت نے 100ارب سے 400ارب ڈالرز کے اثاثے ضبط کیے ۔ معمول کے زیرِِ جرم گرفتاریاں تو سنائی دیتی رہتی ہیں، مگر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ محمدبن سلمان نے یہ مہم اپنے اقتدار کو کنٹرول کرنے، منافقانہ شاہی دھڑوں کو الگ کرنے اور اثاثے اکٹھے کرنے کیلئے  
استعمال کی اس میں کشنر کے ذریعے پہنچنے والی چونکا دینے والی معلومات نے کلیدی کردار ادا کیا۔ گویا اقتدار کے سودے میں رعونتِ شیطانی کے پیچھے جیرالڈ کشنز کا یہودی دماغ کار فرما تھا۔
کشنر کے دورِ صدارت کے بعد، سعودیہ کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے ان کی نجی انویسٹمنٹ فرم ’’ایفنٹی پارٹنرز‘‘میں دو ارب ڈالرز سرمایہ کاری کی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ماہرین نے اس معاہدے کو ’’تمام پہلوؤں میں غیر اطمینان بخش‘‘قرار دیا مگر ولی عہد نے اپنی بادشاہی اتھارٹی استعمال کر کے سرے محل کی اس ادائیگی کو منظور کر لیا ۔ گویا سرمایہ کاری کی یہ خوفناک واقعہ دوستی سے معاہدے  تک کی صورتِ حال ایک سفارتی سودے کا عکاس ہے  جو سلطانِ سعودی اور امریکی توجہ دلانے والوں کے مابین انجام پاتا ہے۔جب امریکی کانگرس نے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کشنر نے غیر رجسٹرڈ فارن ایجنٹ کے طور پر سعودی مفادات پیش کیے؟تو کشنر نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا اور کہا کہ میں نے ہر قانون اور اخلاقیات کی پیروی کی ہے۔ یہ دفاع کم از کم سفارتی پیچیدگیوں کے فریبوں سے ضرور پردہ اٹھاتا ہے؛ مگر ان شبہات کی گونج اب بھی باقی ہے۔
یہ سب سلسلہ محض دوستی کا ثمر نہیں، بلکہ ایک شہنشاہانہ منصوبہ ہے جہاں سعودی ولی عہد نے اپنے عہد کی مضبوطی کیلئے قدم بڑھایا، اور کشنر نے اسے عالمی سطح پر فروغ دینے اور مالیاتی حمایت حاصل کرنے میں مدد دی۔یہ نہ صرف سعودیہ میں طاقت کے توازن کو قائم کرتا ہے، بلکہ خطے میں سیاسی و فوجی معاہدات اور امن معاہدوں کے منظرنامے کو بھی تبدیل کرتا ہے ۔ اس سے سعودی شاہی اقتدار یا جغرافیائی توازن کا بھی پتہ چلتا ہے۔
ٹرمپ کے داماد، جیرڈ کشنر، نے تہہ خانے میں خفیہ چینلز کے ذریعے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے جلد ہی اسرائیل کو تسلیم کرلیا ۔کشنز نے خود تسلیم کیا کہ سعودی عرب کی شمولیت سے ابھرتے ہوئے دس دیگر ممالک، جن میں پاکستان و انڈونیشیا شامل تھے، کا سفر شروع ہوگا ۔ ٹرمپ کے
داماد جیرڈ کشنر نے پاکستان کو ’’نارملائزیشن امکان"‘‘کے ماحول میں نامزد کیا، جسے دفاعی وزیر خواجہ آصف نے تسلیم کیا ۔ اگرچہ پاکستان نے فی الحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، مگر بالآخر اس میدانی کھیل میں دباؤ کے باعث ’’رائے کی سیاست‘‘ملک کے سفارتی افق پر نمودار ہو سکتی ہے۔کشنر نے مدت قبل ایک روایتی فورم میں واضح کیا کہ سعودی عرب اور پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سمت بڑھ رہے ہیں ۔ یہ بیان پاکستانی عوام کیلئے ایک شدید جذباتی جھٹکا ہے، جس میں داخلی انتشار کی خبریں چھپی ہوئی ہیں۔حال ہی میں جیرالڈ کشنر کا ایک بین الاقوامی فورم پر یہ بیان نہ صرف سیاسی طور پر حساس ہے بلکہ پاکستان کے داخلی ماحول میں ایک تہلکہ خیز ہیجان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیان محض ایک سفارتی تجزیہ تھا یا ایک چالاک انداز میں داخلی انتشار کو بھڑکانے کی کوشش؟
اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم کرے گا؟ وطنِ عزیز، جسے نظری اسلام کی بنیاد پر دنیا کے نقشے پر جگہ ملی، اس کیلئے اسرائیل کو تسلیم کرنا صرف ایک خارجی پالیسی کا سوال نہیں، بلکہ قومی خودی، عوامی حساسیت، اور دینی بنیادوں پر کھڑا ایک نظریاتی بحران ہے۔ تاحال ریاستِ پاکستان نے باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، لیکن بین الاقوامی دبا ؤمیں یہ سوال اب ایک ’’ممکنہ حقیقت‘‘کے طور پر زیرِ بحث ہے۔ اگر پاکستان اسرائیل کوتسلیم کرتاہے،توعوام میں شدیداحتجاج اورایک ملکی بحران جنم لے سکتاہے ۔ کیاکشنرنے جان بوجھ کر پاکستان کونام دیکرداخلی عدم استحکام کابیج نہیں بویا؟یہ تشویش کشیدگی کے بے شمارمسائل کوجنم دے سکتی ہے۔
پاکستانی عوام کے دل میں فلسطین کیلئے ایک جذباتی وابستگی ہمیشہ سے رہی ہے۔اسرائیل کوتسلیم کرناعوامی جذبات کی شدیدتوہین تصورکی جائے گی،اورممکن ہے کہ اس کے خلاف ملک گیرمظاہرے،سول نافرمانی اورسیاسی بحران کاطوفان امڈآئے۔کیاکشنرنے پاکستان کانام لیکردانستہ طورپرداخلی خلفشارکی چنگاری سلگائی ہے؟
پاکستان واحداسلامی ایٹمی طاقت ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے ٹی وی پروگرامزمیں پاکستان کوایران کے بعدایک بڑا خطرہ قراردیا۔نیتن یاہوکاپاکستان کی ایٹمی دسترس کو ’’غیر مستحکم‘‘قراردینابے شک ایک جنگی اشارہ ہے۔اسرائیلی قیادت بارہااس کابرملااظہارکرچکی ہے کہ ایک’’دوسراایران‘‘قابلِ قبول نہیں۔نیتن یاہونے ٹی وی پرپاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھی ممکنہ خطرہ قراردیا۔یہ بیان اس بات کاغمازہے کہ خطے میں طاقت کاتوازن اسرائیل کوگوارانہیں،اوروہ ہراس طاقت کوختم کرناچاہتاہے جواس کی بالادستی کوچیلنج کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہودوہنودکاحالیہ اتحادمل کرپاکستان کی ایٹمی قوت کونشانہ بنانے کی کھلی دہمکیاں دیتارہتاہے۔
ہمارے جدیددورکے مصائب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے دوران، اسرائیل نے بھارت کونہ صرف جدیدڈرونز(ہاروپ)فراہم کیے بلکہ ان کے ساتھ اپنے آپریٹرزبھی بھیجے۔پاکستانی افواج کی جوابی کارروائی میں انیس اسرائیلی اہلکارمارے گئے،جن کے تابوت رات کی تاریکی میں تل ابیب منتقل کیے گئے۔اس واقعے کے فوری بعد پاکستان نے اسرائیل کوبطورممکنہ ہدف لینے کاجونہی عندیہ دیا،جس پرامریکی سفارتی محاذحرکت میں آیااورٹرمپ کوخود سیزفائرکرواناپڑا۔انڈین وزیرخارجہ نے بعدازاں تسلیم کیاکہ اگریہ سیزفائرنہ ہوتا،توبھارت تباہ کن انجام سے دوچارہوتا۔
انڈین فوج کے ڈپٹی چیف نے بھی اس جنگ میں پاکستانی افواج کی عسکری برتری کوتسلیم کیاہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکااوراسرائیل اس شکست کابدلہ لینے کیلئے بھارت کو دوبارہ اکساسکتے ہیں؟اگرایساہوا،تومقصدصرف پاکستان کی عسکری طاقت کونیست ونابودکرنانہیں ہوگا،بلکہ اس کی ایٹمی صلاحیت کوختم کرنااصل ہدف ہوگااوراس کے پسِ منظرمیں ایک عالمی صف بندی ہوگی جس میں ابراہیمی معاہدہ کی روح پوری طرح جھلکے گی کہ جواسرائیل کوتحفظ دے،وہی معاہدہ’’امن‘‘کہلاتاہے،اورجواس کی بالادستی کوچیلنج کرے،وہ دہشتگردکہلاتاہے۔اس لئے وہ جوابرہیمی معاہدے کوامن کی ضمانت سمجھنے کی خوش گمانی میں مبتلاہیں،وہ ایک لمحہ اس شیطانی مثلث کے بھیانک کردارکواپنے ذہن میں تازہ رکھیں۔
جونہی پاک بھارت جنگ شروع ہوئی توشیطانی مثلث کے بڑے کردارنے شدیدتمسخرسے اپنی لاتعلقی کااظہارکیالیکن پاکستانی جواب  پرفوری طورپرسیزفائرکی بھاگ دوڑشروع ہوگئی۔یہودوہنودتوپہلے اس پسپائی کوماننے پرتیارنہ تھے لیکن حقیقت کب مستوررہتی ہے اورسناٹے میں لپٹی صدائیں ایک خاموش اعتراف کی شکل میں سامنے آگیا ۔
تاریخ کے اوراق کبھی کبھی ایسے دھبے اپنے دامن پرسجالیتے ہیں جومحض داغ نہیں بلکہ عہدکی علامت بن جاتے ہیں۔کچھ زخم بولتے نہیں،مگران کی خامشی صدابن جاتی ہے۔جنوبی ایشیاکاخطہ،جسے برصغیر کی تہذیب وتمدن کی نگری کہاجاتاہے،آج بھی سیاسی طوفانوں اورعسکری سرگوشیوں کی زدمیں ہے۔حالیہ انٹرویوز،بیانات اورعسکری پریزنٹیشنزنے جو عقدہ کھولا ہے، وہ محض الفاظ کاکھیل نہیں بلکہ ایک قوم کے ذہنی اوراخلاقی بحران کاپردہ چاک ہوگیا۔(جاری ہے)