چین کی کمپنی کا سری لنکا میں 392 ملین ڈالر کا لاجسٹکس منصوبہ ختم کرنے کا فیصلہ

چین کی کمپنی کا سری لنکا میں 392 ملین ڈالر کا لاجسٹکس منصوبہ ختم کرنے کا فیصلہ

کولمبو: چین کی سرکاری کمپنی چائنا مرچنٹس پورٹ ہولڈنگز نے سری لنکا کی مرکزی بندرگاہ کولمبو پر 392 ملین ڈالر کی لاگت سے لاجسٹکس مرکز قائم کرنے کے مشترکہ منصوبے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

 اس پیش رفت کے بعد سری لنکا پورٹس اتھارٹی نے منصوبے کی تکمیل کے لیے نئے سرمایہ کار کی تلاش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سری لنکا پورٹس اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ لاجسٹکس مرکز پر موجودہ شراکت داری کے تحت کام آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ منصوبہ ترک نہیں کیا گیا اور اس کے لیے متبادل سرمایہ کار تلاش کیا جائے گا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سری لنکا اپنی بندرگاہوں کو خطے کی تجارت اور سامان کی ترسیل کے اہم مراکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

منصوبے کے تحت جدید لاجسٹکس مرکز قائم ہونا تھا
کولمبو بندرگاہ پر لاجسٹکس مرکز قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان 2023 میں کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً ڈیڑھ لاکھ مربع میٹر رقبے پر جدید تجارتی اور لاجسٹکس سہولتیں تعمیر کی جانی تھیں۔مجوزہ مرکز میں سامان کی ترسیل، ذخیرہ کرنے اور بندرگاہ سے متعلق دیگر تجارتی سرگرمیوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس کا مقصد بندرگاہ کی گنجائش اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا، تاکہ کولمبو کو علاقائی بحری تجارت میں مزید مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔منصوبے کی مجموعی لاگت 392 ملین ڈالر مقرر کی گئی تھی، جبکہ اس میں چینی کمپنی کو سب سے بڑا شراکت دار بنایا گیا تھا۔

چینی کمپنی کا 70 فیصد حصہ تھا
مشترکہ منصوبے میں چائنا مرچنٹس پورٹ ہولڈنگز کا حصہ 70 فیصد مقرر کیا گیا تھا، جبکہ سری لنکا پورٹس اتھارٹی اور مقامی تعمیراتی کمپنی ایکسس انجینئرنگ کو 15، 15 فیصد حصص دیے گئے تھے۔سری لنکا پورٹس اتھارٹی کے مطابق بیرونی حالات، تجارتی معاملات اور شراکت داروں کے مفادات کا جائزہ لینے کے بعد موجودہ شراکت داری کے تحت منصوبے کو آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔دوسری جانب چینی کمپنی نے ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج کو دیے گئے بیان میں کہا کہ مشترکہ منصوبے کو ختم کرنا تمام فریقوں کے مفاد میں ہوگا۔تاہم دستیاب تفصیلات میں ان مخصوص تجارتی یا بیرونی عوامل کی وضاحت نہیں کی گئی جن کی بنیاد پر شراکت داری ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سری لنکا کے معاشی بحران کے بعد بڑی سرمایہ کاری کا منصوبہ
کولمبو بندرگاہ کے لاجسٹکس مرکز کو سری لنکا میں اپریل 2022 کے شدید معاشی بحران کے بعد اعلان کردہ پہلی بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری قرار دیا گیا تھا۔سری لنکا کو اس بحران کے دوران زرمبادلہ کی شدید قلت، قرضوں کی ادائیگی کے مسائل اور درآمدات کے لیے مالی وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایسے حالات میں بندرگاہوں اور تجارتی بنیادی ڈھانچے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو ملکی معیشت کی بحالی کے لیے اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔لاجسٹکس مرکز کے منصوبے سے دستبرداری کے باوجود سری لنکا میں چین کی بندرگاہوں سے متعلق دیگر سرمایہ کاری برقرار ہے۔ اس لیے اس فیصلے کو سری لنکا کی بندرگاہوں میں چین کی تمام سرمایہ کاری کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

کولمبو اور ہمبنٹوٹا بندرگاہوں میں چین کا کردار برقرار
چائنا مرچنٹس پورٹ ہولڈنگز کولمبو بندرگاہ پر تقریباً 500 ملین ڈالر کی لاگت سے قائم گہرے پانی کے کنٹینر ٹرمینل میں بھی سرمایہ کاری اور آپریشنز کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی سری لنکا میں واقع ہمبنٹوٹا بندرگاہ کے انتظام میں بھی چینی مفادات شامل ہیں۔ہمبنٹوٹا بندرگاہ سری لنکا میں چین کے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ بندرگاہ سابق صدر مہندا راجاپکسے کے دور میں قائم کی گئی تھی، جب ملک میں مختلف بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھاری قرضے حاصل کیے گئے۔بعدازاں قرضوں کی ادائیگی کے مسائل کے دوران سری لنکا نے ہمبنٹوٹا بندرگاہ کو 99 سالہ لیز پر چین کے حوالے کردیا تھا۔ اس معاہدے نے سری لنکا کے قرضوں اور چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے حوالے سے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی تھی۔

نئے سرمایہ کار کی تلاش، حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں
سری لنکا پورٹس اتھارٹی اب کولمبو بندرگاہ کے مجوزہ لاجسٹکس مرکز کے لیے نئے سرمایہ کار کی تلاش کرے گی۔ حکام کے مطابق موجودہ شراکت داری ختم ہونے کے باوجود جدید تجارتی سہولتیں قائم کرنے کا بنیادی منصوبہ برقرار ہے۔تاہم تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نیا سرمایہ کار کب تک تلاش کرلیا جائے گا، منصوبے کی حتمی لاگت میں کوئی تبدیلی ہوگی یا نہیں اور تعمیراتی کام کا آغاز کب ممکن ہوگا۔