محمد ضرار یوسف
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ممتاز مباحثی انجمن (Oxford Union) کی صدارت کا تاریخی اعزاز حاصل کرنے اور اپنی تین ماہ کی مدتِ صدارت کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد، چوبیس سالہ محترمہ بے نظیر بھٹو 1977ء میں پاکستان واپس تشریف لائیں۔ 7 جون 1977ء کو انہیں مشترکہ مفادات کونسل میں بطور انٹرن خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔ یہ آئینی ادارہ آج اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے تحت کام کرتا ہے اور پارلیمنٹِ پاکستان کے دونوں ایوانوں، یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی، کے سامنے جواب دہ ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی یہ تقرری عارضی اور تربیتی نوعیت کی تھی، جس کا بنیادی مقصد انہیں ریاستی اور انتظامی امور کے عملی تجربے سے آشنا کرنا تھا تاکہ وہ حکومتی نظام اور پالیسی سازی کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے سمجھ سکیں۔اسی سال ان کا ارادہ پاکستان فارن سروس کے امتحان میں شرکت کرنے کا تھا، کیونکہ ان کی اولین خواہش سفارت کاری کے شعبے میں قدم رکھنا اور وزارتِ خارجہ کے ذریعے اپنے ملک کی خدمت کرنا تھی۔ اس مرحلے پر ان کے پیشِ نظر نہ کسی سیاسی جماعت کی قیادت سنبھالنے کا منصوبہ تھا اور نہ ہی وہ مستقبل میں وزیراعظم پاکستان بننے کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔ ان کی تمام تر توجہ ایک کامیاب سفارتی کیریئر کے حصول اور قومی خدمت کے لیے اپنی علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر مرکوز تھی۔تاہم 5 جولائی 1977ء کو رونما ہونے والے قومی المیے، جس نے ملک کو تیسرے مارشل لا کی تاریکی میں دھکیل دیا، نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کے رخ اور مستقبل کے ارادوں کو یکسر تبدیل کر دیا۔ اس تبدیلی کے پس منظر میں قائدِ عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو کی بصیرت افروز رہنمائی اور بیگم نصرت بھٹو کی اعلیٰ تربیت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنی صاحبزادی کی سیاسی تربیت محض ایک بیٹی کے طور پر نہیں بلکہ اپنے سیاسی نظریات اور عوامی جدوجہد کی وارث کے طور پر کر رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب صدرِ پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو 21 جون 1972ء کو جنگی قیدیوں کی رہائی اور 1971ء کی جنگ کے دوران بھارت کے قبضے میں جانے والے تقریباً 15 ہزار مربع کلومیٹر پاکستانی علاقے کی واگزاری کے لیے بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی سے اہم مذاکرات کی غرض سے اپنے 13 روزہ دورہ بھارت پر روانہ ہوئے، تو محترمہ بے نظیر بھٹو بھی پاکستانی وفد کا حصہ تھیں۔ اس تاریخی سفر نے نہ صرف پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ کیا بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو بین الاقوامی سفارت کاری اور ریاستی امور کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا ایک نادر موقع بھی فراہم کیا۔ شملہ مذاکرات کے دوران انہوں نے اپنے والد کی سیاسی بصیرت، مذاکراتی مہارت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو قریب سے دیکھا، جس نے ان کی سیاسی سوچ اور قیادتی صلاحیتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر 1974ء میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی خصوصی ملاقاتیں مختلف اسلامی ممالک کے سربراہان اور عالمی رہنماؤں سے کروائیں، تاکہ وہ بین الاقوامی سیاست، سفارت کاری اور
قیادت کے تقاضوں سے عملی طور پر آشنا ہو سکیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی شہرہ آفاق خودنوشت "دخترِ مشرق" (Daughter of the East) میں متعدد مقامات پر اپنی زندگی کے کٹھن مراحل، قید و بند کی صعوبتوں، جلاوطنی کے تلخ تجربات اور طویل سیاسی جدوجہد کا تذکرہ اسلامی تاریخ کے عظیم اور لازوال کرداروں، بالخصوص اہلِ بیتِ اطہار? کی بے مثال قربانیوں کے تناظر میں کیا ہے۔انہوں نے خصوصاً اپنے والد، قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی، اپنی اسیری، تنہائی اور آمریت کے خلاف مسلسل مزاحمت کے دوران حضرت زینب بنتِ علی کے صبر، استقامت، جرات اور عزمِ راسخ سے گہرا روحانی اور فکری اثر قبول کرنے کا ذکر کیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے مطابق جس طرح حضرت زینب نے سانحہ کربلا کے بعد ظلم و جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کیا اور شہدائے کربلا کے پیغام کو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا، اسی طرح وہ بھی اپنے والد کی شہادت کے بعد ان کے سیاسی فلسفے، جمہوری اقدار اور عوامی حقوق کے پیغام کو آگے بڑھانا اپنا فرض سمجھتی تھیں۔بے نظیر بھٹو نے اپنی اسیری کے ایام میں محرم الحرام اور واقع? کربلا کے تذکروں کو اپنے لیے حوصلے، عزم اور روحانی قوت کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اہلِ بیت? کی عظیم قربانیوں کا مطالعہ اور یاد انہیں یہ احساس دلاتی تھی کہ ایک اعلیٰ اور مقدس مقصد کی خاطر ذاتی دکھوں، آزمائشوں اور قربانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جا سکتا ہے۔تاہم انہوں نے کبھی بھی اپنی ذات کو حضرت زینب? کے مقام و مرتبے کے برابر یا ان کے ہم پلہ قرار نہیں دیا، بلکہ انہیں صبر، استقامت، حق گوئی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی ایک عظیم تاریخی و روحانی مثال کے طور پر پیش کیا۔ ان کی تحریر کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جبر، آمریت اور ناانصافی کے مقابلے میں ثابت قدمی، حوصلے اور اصولی مؤقف کو برقرار رکھا جائے، خواہ اس راہ میں کتنی ہی ذاتی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں‘پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران ایسے بے شمار مصائب، پھانسیاں, قید و بند، تشدد اور جانی اور مالی قربانیاں برداشت کیں جن کو واقع? کربلا کے پیغامِ حق، استقامت اور ظلم کے خلاف مزاحمت نقش پا ہیں۔ پارٹی کے نظریاتی کارکنوں نے امام حسین اور اہلِ بیت کی قربانیوں سے یہ درس سیکھا کہ حق اور اصولوں کی خاطر ہر قسم کی آزمائش کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کو سخت سیاسی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، وفادار و جان نثار ساتھیوں کو جھوٹے مقدمات میں پھانسیوں کی سزا , ہزاروں کارکنوں کی گرفتاریاں، کوڑے، طویل اسیریاں، سیاسی پابندیاں اور اظہارِ رائے پر قدغنیں اس دور کے نمایاں واقعات تھے۔ متعدد کارکنوں نے جیلوں میں سختیاں برداشت کیں، جبکہ بہت سے خاندان سیاسی وابستگی کی بنا پر معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہوئے‘محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کئی برس قید و نظر بندی میں گزارے اور بعد ازاں جلاوطنی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں۔ اس تمام عرصے میں انہوں نے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقِ حکمرانی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے تحریک بحالی جمہوریت (MRD) میں کلیدی کردار ادا کیا، جس میں ملک بھر کے سیاسی کارکنوں نے آمریت کے خلاف احتجاجی تحریکوں میں حصہ لیا اور قربانیاں پیش کیں۔ ایم آر ڈی کی 1983ء کی تحریک کے دوران سندھ میں ریاستی طاقت کے استعمال کے حوالے سے متعدد واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ بعض تاریخی اور تحقیقی ذرائع کے مطابق ضیاء الحق حکومت نے جہاں پورے ملک پہ جبر اور ظلم کا راج قائم کر رکھا تھا وہاں اندرونِ سندھ میں احتجاج کو دبانے کے لیے فوج، رینجرز اور دیگر سکیورٹی اداروں کو استعمال کیا، جبکہ
بعض مقامات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں اور فضائی کارروائیوں کا استعمال کیا گیا ضلع نواب شاہ (موجودہ شہید بینظیر آباد) کے گاؤں لکھت (Lakhat) کا واقعہ ایم آر ڈی کی تاریخ میں ظلم اور بربریت کا ایک بڑا واقع ہے جہاں اس گاؤں کے خلاف فوجی کارروائی کر کے گن شپ ہیلی کاپٹروں اور فضائی بمباری کر کے گاؤں کو آگ لگا دی گئی۔ جس میں متعدد شہادتیں ہوئیں۔پیپلز پارٹی کے کارکن اس جدوجہد کو صرف اقتدار کے حصول کی کوشش نہیں بلکہ جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور عوامی نمائندگی کے تحفظ کی تحریک قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جس طرح کربلا حق اور باطل کے درمیان ایک ابدی استعارہ ہے، اسی طرح آمریت کے خلاف جدوجہد بھی اصولوں اور عوامی حقوق کے دفاع کی علامت تھی۔بعد ازاں جمہوریت کی بحالی، سیاسی جماعتوں کی فعالیت، پارلیمانی نظام کے استحکام اور آئین کی بالادستی کے لیے پیپلز پارٹی نے اہم کردار ادا کیا۔ اس جدوجہد کی قیمت پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے قید و بند، جلاوطنی، سیاسی انتقام اور شہادتوں کی صورت میں ادا کی، جن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو بھی ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔یزیدیت ظلم، جبر، باطل اور غاصب قوتوں کی علامت ہے، جبکہ حسینیت حق، صبر، استقامت، قربانی اور اصول پسندی کا روشن استعارہ ہے۔ یومِ عاشور کے ان پر سوز و الم دنوں میں جب ہم شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، اسی موقع پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ بھی ہمیں ان کی جدوجہد، بہادری اور جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے‘پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان نے بھی حسینیت کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آمریت، جبر اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر جمہوریت، عوامی حقوق اور آئین کی سربلندی کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ آج ان عظیم شہداء اور جان نثار کارکنوں کو یاد کرنا اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا نہ صرف سیاسی بلکہ قومی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔