امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایران کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنی خارجہ حکمت عملی میں فوری طور پر تبدیلی کی ضرورت ہے اور اسے خطے میں اپنی منفی مہم جوئیوں کو بند کر دینا چاہیے۔
انٹونی بلنکن نے یہ باتیں ایک عالمی فورم پر خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ ان کے مطابق، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس سال ایران کے لیے مشکلات کا سامنا رہا ہے اور وہ مسلسل اپنے مقاصد میں ناکامی کا شکار ہو رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کی اہم تنقید
ایران کی پراکسی جنگوں پر تنقید: بلنکن نے کہا کہ ایران کی حمایت یافتہ پراکسی فورسز، جیسے حزب اللہ اور حماس، کو نہ صرف اسرائیل نے نقصان پہنچایا ہے بلکہ ان کی عسکری صلاحیتوں کو بھی شدید ضربیں لگائیں گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ان تنظیموں کے متعدد اہم رہنماؤں کو ہلاک کیا اور ان کے فوجی آپریشنز کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران کی خطے میں اثر و رسوخ کی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔
اسرائیل کی کامیاب کارروائیاں: بلنکن نے اسرائیل کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کے خلاف کامیاب آپریشنز کی بدولت ان دونوں تنظیموں کی قوت میں کمی کی ہے۔ اسرائیل کی یہ کارروائیاں ایران کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں، کیونکہ ان تنظیموں کے ذریعے ایران اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
ایران کے لیے دو راستے: انٹونی بلنکن نے ایران کے لیے دو راستے تجویز کیے:پہلا راستہ یہ ہے کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائے، خطے میں منفی مہم جوئیوں کو روک دے، اور عالمی سطح پر اپنے رویے کو مثبت بنائے۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ ایران اپنے اندرونی مسائل پر توجہ مرکوز کرے، اپنے عوام کی بہبود کے لیے اقدامات کرے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔
ایران کی منفی سرگرمیوں کے اثرات: انٹونی بلنکن نے ایران کی خطے میں جاری منفی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق، ایران کی طرف سے دہشت گرد گروپوں کی حمایت اور پراکسی جنگوں میں مداخلت نے نہ صرف ایران کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو بھی خطرات میں ڈالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی یہ حکمت عملی بالآخر اپنے عوام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔
پس منظر:
اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں سے جاری ہے، اور ایران ہمیشہ اسرائیل کے خلاف اپنے مؤقف کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیمیں حماس اور حزب اللہ اسرائیل کے دشمن ہیں اور ایران ان تنظیموں کو اپنے جغرافیائی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ایک سال سے جاری جنگ کے دوران، اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کی اہم قیادت کو نشانہ بنایا ہے اور ان کے جنگی وسائل کو تباہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایران کا اثر و رسوخ خاصا کمزور ہوا ہے۔ اس دوران، اسرائیل اور ایران کے تعلقات میں مزید کشیدگی آئی ہے، اور امریکہ نے اس صورتحال میں ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
ایران کے لیے عالمی دباؤ:
امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید دباؤ ڈالنا ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کو خطے میں اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ امریکہ ایران کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دے اور عالمی امن میں مثبت کردار ادا کرے۔اس کے باوجود، ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہیں کرے گا، خاص طور پر جب بات اسرائیل کے حوالے سے ہو۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پراکسی تنظیموں کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کرتا رہے گا۔ تاہم، بلنکن کے بیان نے اس بات کو واضح کیا کہ امریکہ ایران کے اس طرز عمل کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور اسے عالمی سطح پر مشکلات کا سامنا ہوگا۔یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایران کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ اور چیلنجنگ بنا دیتی ہے۔