ناذیہ آصف
موبائل فون کا استعمال ہماری زندگی میں عام ہوگیا ہے۔ دوستوں یا فیملی سے بات کرنی ہو ، شاپنگ کرنی ہو، ویڈیو گیم کھیلنی یا کاروبار کرنا ہو، تازہ ترین خبریں سننی ہوں ، انٹرٹینمنٹ کے حوالے سے کوئی پروگرام دیکھنا ہو، کچھ ریسرچ کرنا ہو ، کوء راستہ معلوم کرنا ہو ، کوء نئی ریسیپی سیکھنی ہو ، کوء جگاڑ لگانی ہو، دنیا کے حالات جاننا ہوں ، یعنی اس عہد میں موبائل وہ گھنٹہ گھر چوک بن چکا ہے کہ جس گلی میں بھی داخل ہو لو، نکلنا اسی گھنٹہ گھر چوک میں ہی ہے۔ یہاں تک کہ اب تو کالج یونیورسٹیز میں کتابوں کی جگہ بھی لیپ ٹاپس لے چکے۔ موبائل کا استعمال اگر مثبت طور پہ اور مناسب طریقے سے ہو تو کوئی برائی بھی نہیں ہے مگر بلاوجہ ہمہ وقت موبائل میں گھسے رہنا وقت اور صحت دونوں کا ضیاع ہے۔
یاد رہے یہ جنریشن ذی کا دور ہے۔جس نے بہت جلد ہمیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حالیہ نیپال کے حالات پہ غور کریں تو وہاں پہ چنگاری موبائل ایپس پہ پابندی سے ہی بھڑکی تھی، جس نے بڑھتے بڑھتے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا اور کء شہروں کی اہم ترین عمارات و املاک کو بھی تباہ برباد کر دیا یہاں تک کہ فوج نے ٹیک اوور کر کے ملک میں کرفیو لگا کر حالات کو کنٹرول کیا۔اگرچہ اس انارکی کے پیچھے وجہ حکومتی زعماء اور ان کے کی اولادوں کی کرپشن بتاء جا رہی ہے ، مگر یہ ایک سوشل میڈیا گروپ تھا جس کا کوئی لیڈر تھا نہ نظریہ، موبائل ایپس بند ہوئیں ، ان سے ہونے والے کاروبار زندگی متاثر ہونے شروع ہوئے تو یہ لہر زور پکڑتی چلی گئی اور آج حالات ہمارے سامنے ہیں۔
موبائل کا بے جا استعمال ایک عادت سے زیادہ ایک لت ہے ، ایک ایسا نشہ ہے کہ جس کے پیچھے کئی بچوں نے اپنے گھر والوں کی جان لینے سے بھی گریز نہ کیا۔اس میں والدین خود بھی قصوروار ہیں وہ پہلے تو دو سال کے بچے کو بہلانے کے لئے اس کے ہاتھ میں موبائل پکڑا دیتے ہیں اور اس کو برا رویہ بھی نہیں گردانتے، تو سوچنے کی بات ہے جس بچے کو فیڈر کے ساتھ جو دوسری چیز سمجھ میں آئی وہ موبائل تھا۔اب کے شیر خوار موبائل کو ماں کے متبادل کے طور پہ دیکھ رہے ہیں۔ نتیجہ وہ ماں سے زیادہ موبائل کے قریب ہو رہے ہیں۔اسی وجہ سے والدین اور بچوں میں جنریشن گیپ بڑھتا جا رہا ہے۔ جو الگ سے خانگی مسائل کا باعث بن رہا ہے۔، مگر شائد اس میں بھی بچوں سے زیادہ ہمارے کرتا دھرتا ہیں۔جنھوں نے پارک اور کھیل کے میدان بنانے بند کر دیے ہوئے ہیں۔اپنے آس پاس جائزہ لیں تو پانچ سات لاکھ کی آبادی رکھنے والے شہر میں کھیل کے لیے ایک آدھ چھوٹا موٹا قطعہ زمین ہو گا ، ادھر گھر میں والدین موبائل استعمال کریں گے تو بچے کہاں جائیں گے ،بھی وہی کریں گے جو بڑے کر رہے ہیں۔ معاشرے میں خاص طور پہ بچوں میں سدھار لانا ہے تو پہلے والدین کو رول ماڈل بننا ہوگا ، اپنی عادات کا حساب کرنا ہوگا۔جارحانہ گیمز بچوں کے اندر بھی جارحانہ رویوں کو جنم دیتی ہیں، ان جذبات کو اگر بروقت مناسب ڈرین نہ مہیا کیا جائے تو یہ پریشر ککر کی طرح پھٹ بھی سکتے ہیں۔کوئی بھی ڈیوائس بذات خود بری نہیں ہمارا طریقہ استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ کچے ذہنوں کو موبائل کا موثر استعمال سکھایا جائے ، انھیں پڑھاء کے ساتھ مختلف ایپس سے چھوٹی چھوٹی ٹرکس سکھا کر ان کی تخلیقی استعداد بڑھاء جائے، ان کی صلاحیتوں کو کارآمد بنایا جائے ، بچوں کو مختلف قسم کی جسمانی و ذہنی ورزشں سکھائیں ، جیسے پزل وغیرہ۔اس سے بچوں کے آئی کیو لیول میں اضافہ ہو گا ‘بچّوں کا سکرین ٹائم کم سے کم رکھنا ان کی بصارت اور جسمانی فٹنس کے لیے بہت اہم ہے۔سکرین پردہ بصارت پہ انتہاء برے اثرات ڈالتی ہے۔ بہترین طریقہ ہے کہ ان کو کتابوں کی طرف راغب کیا جائے۔والدین خود اپنے شوق کی قربانی دیتے ہوئے موبائل کا استعمال گھٹائیں گے تو فیملی ٹائم بڑھے گا۔جس سے رشتوں کا معیار اعلی و پختہ ہو گا، روایات کو تقویت ملے گی۔ گھر کے بزرگوں سے بچوں کا میل جول بڑھانے سے بھی اس لعنت سے بچا جا سکتا ہے۔موبائل کے کم سے کم استعمال اور اصولوں کی پابندی کرنے پر انعام رکھیں جس سے موبائل فون کے کم استعمال کی ترغیب ملتی ہے۔ رات کو سوتے وقت موبائل فون بستر پر نہ لے کر جانے دیں۔بلکہ بچوں کے موبائل آف کر دیں۔کیونکہ بچے موبائل سے قریب اور والدین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔آج کے دور میں موبائل فون کا استعمال بالکل ختم نہیں کیا جا سکتا مگر استعمال مناسب بنایا جا سکتا ہے