حافظ محمد اقبال
صوبہ پنجاب میں بسنت ایک قدیم اور رنگا رنگ ثقافتی تہوار کے طور پر جانی جاتی رہی ہے۔ خاص طور پر لاہور سمیت مختلف شہروں میں یہ تہوار خوشی، میل جول اور روایتی سرگرمیوں کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس تہوار پر پابندیاں اور تنازعات بھی سامنے آئے، لیکن اس کے کئی مثبت پہلو ایسے ہیں جو معاشرتی، ثقافتی اور معاشی اعتبار سے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔سب سے نمایاں مثبت پہلو بسنت کا خوشی اور تفریح فراہم کرنا ہے۔ عام طور پر لوگ روزمرہ کی مصروفیات اور ذہنی دباؤ میں الجھے رہتے ہیں۔ بسنت کے دن چھتوں پر چڑھ کر پتنگ بازی کرنا ، دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنا اور رنگ برنگے آسمان کو دیکھنا انسان کے ذہنی سکون اور خوشی کا باعث بنتا ہے۔ یہ تہوار لوگوں کو وقتی طور پر فکروں سے دور لے جا کر مثبت توانائی فراہم کرتا ہے۔بسنت کا دوسرا اہم فائدہ معاشرتی ہم آہنگی اور میل جول کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر مختلف طبقات کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خوشی بانٹتے ہیں۔ ہمسایوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور خاندانوں میں قربت بڑھتی ہے۔
ثقافتی اعتبار سے بسنت پنجاب کی قدیم روایات اور تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ تہوار پنجاب کی شناخت اور علاقائی ثقافت کا اہم حصہ رہا ہے۔ روایتی لباس پہننا، زرد رنگ کی اہمیت، خاص کھانوں کی تیاری اور مقامی موسیقی اس تہوار کو ایک مکمل ثقافتی تقریب بنا دیتے ہیں۔ معاشی لحاظ سے بھی بسنت کے کئی مثبت اثرات سامنے آتے ہیں۔ پتنگ سازی، ڈور بنانے، کپڑوں کی تیاری اور کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔ بسنت کے دنوں میں بازاروں کی رونق بڑھ جاتی ہے، چھوٹے تاجروں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور مقامی صنعت کو تقویت ملتی ہے۔ سیاحت کے فروغ میں بھی بسنت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دھاتی ڈور اور پتنگ بازی سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی وجہ سے دو دہائیاں قبل بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی لگادی گئی تھی تاہم اس بار وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دلیرانہ اقدام اٹھاتے ہوئے اس روایتی تہوار کو محفوظ انداز میں منانے کا اعلان کیا تو ہر طرف خوشیو ں کی لہر دوڑ گئی اور بسنت کے رنگا رنگ تہوار نے شہر کو خوشیوں، موسیقی اور پتنگوں کے دلکش مناظر سے بھر دیا، آسمان رنگ برنگی پتنگوں اور گڈیوں سے ڈھکا رہا جبکہ چھتوں پر شہریوں کا رش دیکھنے کے لائق تھا۔ کیا بچے اور کیا بوڑھے، یہاں تک کے بچے (جین زی) اور خواتین نے بھی اِس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اندرون لاہور کے علاقوں خصوصاً لوہاری گیٹ، دہلی گیٹ اور دیگر قدیمی محلوں میں مسلسل ’’بو کاٹا‘‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ گلی محلوں میں پتنگیں لوٹنے کا منظر بھی بسنت کی روایتی پہچان بنا رہا۔ پہلے روز ہوا کی رفتار کم ہونے کے باعث سرگرمیاں محدود رہیں تاہم رات گئے جیسے ہی موسم سازگار ہوا چھتوں پر گہما گہمی بڑھ گئی، رات کے اندھیرے میں سفید پتنگوں نے آسمان کو سجا دیا۔ جمعہ کی رات سے شروع ہونے والی بسنت پیر کی صبح پانچ بجے تک جاری رہی، وزیراعلیٰ پنجاب نے شہریوں کی طرف سے حکومتی ایس او پیز
پر عمل کرنے پر وقت بڑھا دیا تھا۔ بسنت منانے کے لیے نہ صرف دیگر شہروں سے لاکھوں لوگ لاہور آئے بلکہ غیر ملکی مہمانوں کی بڑی تعداد نے بھی لاہور کا رخ کیا،بسنت کے دوران لاہور میں مجموعی طور پر چار سے چھ ارب روپے تک کا کاروبار ہوا، اس میں پتنگ اور ڈور کی خریداری، کھانے پینے کی اشیا اور سفر شامل تھا۔ صرف پتنگ اور ڈور کی فروخت سے دو ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا۔باربی کیو پارٹیوں کے باعث پولٹری انڈسٹری کو نمایاں فائدہ پہنچا، جبکہ فاسٹ فوڈ اور مٹھائی کی فروخت سے بھی کروڑوں روپے کی آمدن ہوئی۔دیگر شہروں سے بڑی تعداد میں شہریوں کی لاہور آمد کے باعث ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی خاصی سرگرمی دیکھی گئی،تین دن کے دوران لاہور میں نو لاکھ سے زائد گاڑیوں کی انٹری ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرکاری بسوں پر تقریباً 14 لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔ لگ بھگ 40 لاکھ لوگ نہ صرف گاڑیوں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ، ریل اور فضائی سفر کے ذریعے لاہور پہنچے،یہ کہا جا سکتا ہے کہ بسنت پنجاب کی ثقافت، معیشت اور سماجی زندگی کا ایک اہم اور مثبت پہلو رکھتی ہے۔ اگر اسے محفوظ طریقے سے منانے کے مؤثر انتظامات کیے جائیں تو یہ تہوار نہ صرف لوگوں کو خوشی فراہم کر سکتا ہے بلکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور سماجی ہم آہنگی کے استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسنت کو صرف ایک کھیل یا تہوار نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی اور معاشرتی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔تہوار ایک بار پھر ثابت کر گیا کہ لاہور واقعی زندہ دلوں کا شہر ہے جہاں ثقافت اور خوشی زندہ رہتی ہے۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب نے جرات مندانہ فیصلہ کیا اور وہ کر دکھایا جو بہت عرصے سے کوئی کرنے کو تیار نہیں تھا۔