جیل غیرت سے کاٹی جاتی ہے صدر زرداری

’’ادھر ہم، اْدھر تم‘‘ کے نعرے کو غلط انداز میں پیش کیا، مطلب اکثریتی نمائندگی اور مذاکراتی سیاسی حل تھا
ٹریکٹر بھی کسانوں پر ایک بڑا مالی بوجھ، قیمتیں زیادہ ، جلد مثبت پیش رفت کا اعلان کیا جائیگا،وہاڑی میں خطاب
وہاڑی (خصوصی رپورٹ)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا جیل غیرت سے کاٹی جاتی ہے ، سہولیات نا ملنیپررونے دھونے، بیماریوں کے بہانے بنانے، رہائی کے لیے توڑ پھوڑ والے احتجاج اور ریاست دشمنی سے نہیں،عمران خان جیل میں سختیاں نہ ہونے کے باوجود رو رہے ہیں ، میں انتقامی تشدد اور قید میں کبھی گھبرایا نا بیماریوں کا شور ڈالا پریشانی کو بھی کبھی قریب نا پھٹکنے دیا،میرے جیل جاتے وقت بلاول بہت چھوٹا تھا میری طویل قید کے دوران ملاقات کے لیے آیا تو اس کا قد مجھ سے بڑا ہوچکا تھا ،ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی ورثے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘ادھر ہم، اْدھر تم’’ کے نعرے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ اس کا مطلب اکثریتی نمائندگی اور مذاکراتی سیاسی حل تھا۔ انہوں نے مزید کہا پاکستان کے معاشی چیلنجز کا پائیدار حل زراعت میں مضمر ہے، قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو مضبوط بنانے، کاشتکاری کے طریقوں کو جدید بنانے اور آبی تحفظ کو یقینی بنانے پر ہے،ٹریکٹر بھی کسانوں پر ایک بڑا مالی بوجھ ہیں اور ان کی قیمتیں زیادہ ہیں تاہم اس حوالے سے جلد مثبت پیش رفت کا اعلان کیا جائے گا، وہاڑی میں نواب شہزاد علی خان اور نواب شہریار علی خان کی رہائش گاہ پر کارکنان، تاجروں اور وکلاء￿  کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ جب پہلی بار صدارت سنبھالی تو گندم کی پیداوار کی صورتحال تشویشناک تھی۔ اس وقت کے وزیرِ خزانہ کو کسانوں کی مدد کیلئے گندم کی قیمت بڑھانے کا مشورہ دیا تھا،جب فوری طور پر ایسا کرنا ممکن نہ تھا تو بعد ازاں اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے امدادی قیمت میں اضافہ کیا اور کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر حکومتِ سندھ اکثر سب سے پہلے گندم کی قیمت کا اعلان کرتی رہی ہے جس کے بعد دیگر صوبے بھی اس کی پیروی کرتے ہیں۔صدر زرداری نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں زرعی مداخل مہنگے ہیں جبکہ پیداوار نسبتاً کم ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے انہوں نے اپنے ذاتی فارموں پر نامیاتی کھاد کی تیاری شروع کی ہے تاکہ مہنگی کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں زرعی اصلاحات کے تحت 4ہزار 300 میل طویل نہروں کی لائننگ کی گئی ہے اور ڈیڑھ لاکھ ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بنائی گئی ہے، جس سے آبپاشی کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں عالمی تنازعات کی بڑی وجہ پانی ہوگا اور بھارت کے ساتھ آبی مسائل پر جاری کشیدگی کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی نہ صرف زراعت بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی ضروری ہے اور زیرِ زمین پانی میں سیوریج کی آمیزش سنگین خطرہ بن چکی ہے۔صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان ہے۔ انہوں نے نواب شہزاد علی خان کی جانب سے وہاڑی میں مفت تعلیم فراہم کرنے والی یونیورسٹی کے قیام کے اقدام کو سراہا اور تجویز دی کہ اسے اْن کی والدہ کے نام سے منسوب کیا جائے جنہوں نے زمین عطیہ کی۔