اسلام آباد ہائیکورٹ نے اداروں کے خلاف مہم پر درخواست پر اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کردی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اداروں کے خلاف مہم پر درخواست پر اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کردی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی چوک احتجاج اور اداروں کے خلاف چلنے والی مہم کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی اور اس پر اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کی۔

 چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں عدالت نے طالب حسین ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے درخواست میں وزیر اعظم اور وزراء کو ان پرسن بلانے کی درخواست کی ہے کیونکہ وہ 26 نومبر کے احتجاج میں ملوث ہیں اور اس کے ثبوت اخبارات میں موجود ہیں۔چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے رٹ کس کے خلاف دائر کی ہے اور عدالت سے کس کو ڈائریکشنز دینے کی درخواست کی ہے؟

 انہوں نے مزید کہا کہ اخباری تراشوں کی بنیاد پر ہم کسی کو ان پرسن نہیں بلا سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت تحقیقات نہیں کر سکتی، یہ اداروں کا کام ہے، اور درخواست کو مناسب طریقے سے دائر کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے درخواست پر اعتراضات دور کرنے کے بعد درخواست کو دوبارہ سات روز میں دائر کرنے کی ہدایت کی۔ اس فیصلے کے بعد، درخواست گزار کو اپنی درخواست میں مزید وضاحت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔