مغرب کا غروب، مشرق کا ظہور

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
یہ بھی بعید نہیں کہ شی جن پنگ نے اس نشست کی ترتیب اور پوری تقریب کو خاص طور پر ٹرمپ جیسے مزاج رکھنے والے رہنما کو بھڑکانے کیلئے ڈیزائن کیا ہو۔ ٹرمپ اپنی شخصیت میں مرکزیت پسند ہیں اور دنیا کے اسٹیج پر سب سے آگے رہنا چاہتے ہیں۔ ایسے شخص کیلئے یہ منظر ایک ناقابلِ برداشت تلخی تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ چین نے محض فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ سیاسی ذہانت کا بھی مظاہرہ کیا۔
یہ سوال باقی ہیکیایہ محض تدبیرتھی یاکسی خاص شخصیت کوجلانے کااہتمام؟مگرایک بات طے ہے کہ چین نے عسکری طاقت کے ساتھ سیاسی ذہانت بھی دکھائی۔یہ بات بھی زیرِغورہے کہ شی نے یہ سب کسی خاص شخصیت یعنی ٹرمپ کوغصہ دلانے کیلئے ترتیب دیاہو۔ٹرمپ کی شخصیت اپنی خودنمائی اورمرکزیت پراصراررکھتی ہے،اورایسے شخص کیلئے یہ منظرایک کڑوی گولی تھا۔۔ٹرمپ اپنی شخصیت میں مرکزیت پسندہیں اوردنیاکے اسٹیج پرسب سے آگے رہناچاہتے ہیں۔ایسے شخص کیلئے یہ منظرایک ناقابلِ برداشت تلخی تھا۔یوں کہاجاسکتاہے کہ چین نے محض فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ سیاسی ذہانت کابھی مظاہرہ کیا۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب تدبیرایک ایسے صدرکے خلاف کی گئی ہوجس کامزاج اشتعال سے بھرارہتاہے اورجوخودکودنیاکا مرکزدیکھنے کاخواہاں ہے۔اس طرح شی نے ایک تیرسے کئی شکارکیے۔
پریڈمیں شی جن پنگ صرف ایک صدرنہیں تھے بلکہ ایک محورتھے ،ایک ایسی شخصیت جس کے گردمشرقی اتحادگھوم رہا تھا۔یہ منظراعلان تھاکہ اب دنیا کی قیادت یکطرفہ نہیں رہے گی۔ ٹرمپ کی غیرمتوقع پالیسیوں نیدنیاکوہلاکررکھ دیاتھا۔شی جن پنگ کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ پوری دنیاکی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جائے اوریہ مقصدوہ بخوبی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ایسے میں شی جن پنگ نے گویایہ پیغام دیاکہ اگرمغرب لرزاں ہے تومشرق مطمئن ہے۔یہ تضادآج کی عالمی سیاست کااصل خلاصہ ہے۔
شی جن پنگ کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ پوری دنیاکی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جائے۔اوریہ مقصدوہ بخوبی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔دنیانے دیکھاکہ ایک مشرقی طاقت اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس اندازمیں ابھری ہے جیسے کل کاقائدیہی ہو۔شی جن پنگ نے دنیاکوباورکرایاکہ وہ نہ صرف چین بلکہ پورے مشرقی اتحادکے قائدہیں۔یہ اتحاددراصل ایک ایسی قوت ہے جوامریکی بالادستی کوچیلنج کرنے کاحوصلہ رکھتاہے۔اس موقع پرچین نے واضح کردیاکہ وہ اپنی طاقت کوصرف دفاع کیلئے نہیں بلکہ قیادت کیلئے استعمال کرے گا۔
شی جن پنگ نے خودکوصرف ایک صدرنہیں بلکہ ایک محورکے طورپرپیش کیامشرق کارہنما،مشرقی اتحادکامرکز،اورمغرب کی بالادستی کے خلاف ایک نیاعلمبردار۔یہ منظردراصل ایک اعلان تھاکہ اب عالمی سیاست یک قطبی نہیں رہی۔سردجنگ کے بعد امریکانے جوواحدسپرپاورہونے کازعم پالاتھا،اس کی بنیادیں ہلنے لگی ہیں۔
شی جن پنگ نے اپنی شخصیت اوراپنی ریاست کوتقریب کامرکزبنایا۔انہوں نے یہ باورکرایاکہ اب مشرقی قیادت ایک جھنڈے تلے جمع ہے اوران کامقصددنیاسے امریکاکی بالادستی کے طلسم کوتوڑناہے۔یہ ایک ایسے گروہ کااعلان ہے جواپنی راہوں پرخودقدم رکھناچاہتاہے۔شی جن پنگ کایہ مظاہرہ اس وقت سامنے آیاجب دنیاٹرمپ کی صدارت کے غیرمتوقع فیصلوں سے ہنوزسنبھل نہیں پائی۔ٹرمپ کے غیرمتوقع فیصلوں سے دنیاہل چکی تھی۔ ایسے میں شی نے گویادنیاسے کہامشرق کاراستہ پختہ ہے،اورہم لرزاں نہیں۔ایسے میں چین کایہ مظاہرہ گویادنیاکوایک یقین دہانی تھی کہ اگرمغرب غیرمتوازن ہے تومشرق میں ایک نئی قیادت ہے جواپنے عزم اور تسلسل کے ساتھ دنیاکونئی سمت دے سکتی ہے۔شی کایہ رویہ دراصل اس اضطراب کاجواب ہے جودنیاکوٹرمپ کے غیرمتوقع فیصلوں نے دیا۔انہوں نے دنیاکوبتایاکہ اگرمغرب غیریقینی میں ہے تومشرق اپنے عزم میں پختہ ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک ابھی تک ٹرمپ کی غیرمتوقع پالیسیوں سے گھبرائے ہوئے ہیں۔شی کایہ رویہ ان کیلئے ایک طرح کی یقین دہانی تھی کہ اگرمغرب غیرمستحکم ہے تومشرق ایک پختہ لائحہ عمل رکھتاہے۔
بظاہریہ تقریب دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے اسی برس مکمل ہونے کی یادمیں تھی،مگردرحقیقت اس کے پس منظرمیں ایک اورپیغام چھپاتھاکہ  یہ چین کی فتح کااعلان تھا۔شکست کے زخم کوقیادت کے تاج میں بدل دیناتاریخ کی بڑی قوموں ہی کاوصف ہے۔چین دنیاکویہ دکھاناچاہتاتھاکہ اب چین محض ماضی کی یادوں میں نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت میں قدم رکھ رہاہے۔ اب چین ماضی کازخم خوردہ ملک نہیں بلکہ مستقبل کارہنماہے۔اب وہ محض ایک شکست خوردہ قوم نہیں بلکہ ایک فاتح طاقت ہے جواپنے ماضی کے زخموں کومرہم لگاکرمستقبل کی قیادت کے منصب پرفائزہورہی ہے۔یہ منظرتاریخ کاایک استعارہ تھاشکست کی یادکوفتح کے اعلان میں بدل دیناگویاایک شکست کی یادکوفتح کے اعلان میں بدل دیاگیا۔
شی کے عقب میں جوفوج کھڑی تھی،وہ دنیاکیلئے ایک انتباہ تھی۔یہ محض عسکری سازوسامان نہ تھابلکہ ایک نظریہ تھاکہ اب طاقت کاتوازن بدلنے والاہے۔مغرب نے ہمیشہ اپنی فوجی قوت کے ذریعے دنیاپرتسلط قائم رکھامگرآج چین نے یہ باورکرادیاکہ وہ اب کسی کے تابع نہیں۔شی کے پیچھے کھڑی وہ فوج تھی جسے مغرب کامقابلہ کرنے کیلئے تیارکیاگیاہے۔یہ صرف عسکری قوت کااظہارنہ تھابلکہ ایک عزم تھاکہ سمندروں اورفضاؤں میں اب طاقت کاتوازن بدلنے والاہے۔شی کے ساتھ موجودفوجی طاقت اس امرکی شاہدتھی کہ چین نے اپنی عسکری تیاری کومغرب کے برابربلکہ اس سے آگے بڑھانے کاعزم کرلیاہے۔چینی فوج کاجلوہ محض توپ اوربارودنہ تھابلکہ ایک نظریہ تھاطاقت اب مشرق کے ہاتھ میں ہے۔ ہتھیارصرف لوہے اوربارودکاڈھیرنہیں ہوتے،بلکہ ایک نظریہ اورایک اعتماد بھی ہوتے ہیں۔
تیانمن اسکوائرپرتین رہنماؤں کی موجودگی گویاایک عہد کی تصویری سندتھی۔تاریخ نے اس منظرکواپنے صفحات میں ایک نئے آغازکے طورپرمحفوظ کرلیا۔شی،پوتن اورکم کاایک ساتھ کھڑاہوناایک نئی تاریخ کی تحریرتھا۔شی،پوتن اورکم کاایک ساتھ نظرآنا عالمی سیاست میں ایک نیامنظرتھا۔تیانمن اسکوائرمیں یہ اجتماع دراصل اس بات کااعلان تھاکہ مشرق اب اپنی راہیں خودطے کرے گا۔یہ پہلی بارتھاکہ شی،پوتن اورکم اکٹھے نظرآئے۔تیانمن اسکوائرپرجسے’’ گیٹ آف ہیونلی پیس‘‘ کہاجاتاہے ۔یہ منظرتاریخ کے باب میں ایک نئی سطرلکھ رہاتھا ۔تیانمن اسکوائرپران کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ مشرقی دنیاایک جھنڈے تلے جمع ہورہی ہے۔یہ تصویرعالمی سیاست کے مستقبل کاایک آئینہ ہے جس میں طاقت کانیا توازن جھلکتاہے۔یہ تصویرآئندہ نسلوں کیلئے ایک علامت کے طورپرمحفوظ ہوگی۔
یہ وہی مقام تھاجہاں1949میں ما زے تنگ نے جمہوریہ چین کااعلان کیاتھا۔یہ جگہ تاریخ کے فیصلوں کی گواہ ہے۔بعد ازاں دس برس بعدیہی مقام سوویت رہنماخروشیف اورکم کے داداکی فوجی پریڈکی میزبانی کاگواہ بنا۔آج شی نے اسی ورثے کونئی معنویت دی۔گویاتاریخ اپنے دائرے کومکمل کرکے ایک نئے سفرپرروانہ ہوئی۔وہی مقام جہاں ماؤنے جمہوریہ کااعلان کیاتھا،آج شی نے ایک نئی تاریخ کی صدابلندکی۔تاریخ اپنے دائرے میں پھرسے لوٹ آئی۔آج اسی مقام پرشی نے ایک نیاباب کھولا۔گویاتاریخ ایک دائرہ ہے جواپنے محورپردوبارہ گھوم آیا۔
یورپی اورامریکی حلقے اس تقریب کودیکھ کراضطراب میں مبتلاہوگئے ہیں اوران کے دل میں بے چینی نے جنم لے لیاہے۔طاقت کے ترازومیں اب پلڑابدلتا دکھائی دینے لگا۔ یورپ اورامریکامیں پریشانی کی لہریں دوڑتی نظرآئیں۔کچھ چہروں پراس طاقت کے مظاہرے نے اثردکھایااورطاقت کایہ مظاہرہ ان کیلئے ایک چیلنج بھی تھااورایک انتباہ بھی کہ اب عالمی سیاست یک قطبی نہیں رہی۔دنیاکے توازن میں ایک نیاپلڑاوجودمیں آرہاہے اوراب دنیاکی سیاست میں ان کی اجارہ داری کوخطرہ لاحق ہے۔یہ پریشانی محض سیاسی نہ تھی بلکہ تہذیبی بھی۔مغرب صدیوں سے اپنی برتری کاخوگررہاہے،اوراب وہ اس کے زوال کی پہلی آہٹیں سن رہا ہے۔(جاری ہے)