جب اقتدار، اصول پر غالب آ جائے

 ملک محمد اسحاق
ایک محلے کی کہانی ہے۔ایک دروازہ مسجد کی طرف کھلتا تھا جہاں امام صاحب علم، تقویٰ اور خیر خواہی کے ساتھ بیٹھتے تھے۔دوسرا دروازہ اْس شخص کے گھر کو جاتا تھا جس کے پاس دولت، اثر و رسوخ اور فوری فیصلہ نافذ کرانے کی طاقت تھی۔جب جھگڑا ہوتا، لوگ نصیحت لینے نہیں جاتے تھے — وہ مسئلہ حل کرانے جاتے تھے اور مسئلہ وہاں حل ہوتا تھا جہاں طاقت تھی، چاہے اخلاق نہ ہو۔یہ قصہ محلے کا نہیں، ریاست کا ہے۔جب ادارے کمزور ہوں تو لوگ اصول کی نہیں، اختیار کی طرف رجوع کرتے ہیں۔جب انصاف کے پاس نفاذ کی قوت نہ ہو تو معاشرہ طاقتور کے دروازے پر قطار بناتا ہے۔یہی ہماری قومی کشمکش ہے۔پاکستان میں سیاست ایک نظریاتی جدوجہد سے زیادہ، اکثر ایک موروثی تسلسل دکھائی دیتی ہے۔ایک ہی حلقے سے بار بار وہی نام۔پھر اس کا بھائی۔پھر اس کا بیٹا۔پھر اسی خاندان کا کوئی اور فرد۔یہ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔یہ ہماری سیاسی ساخت کا مسئلہ ہے۔انتخابات ہوتے ہیں، مگر مواقع محدود رہتے ہیں۔جمہوریت موجود ہے، مگر رسائی مخصوص ہے۔سوال یہ نہیں کہ عوام ووٹ کیوں دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کتنے اہل لوگ ٹکٹ تک پہنچ پاتے ہیں؟جب دروازے بند ہوں تو مقابلہ کمزور ہو جاتا ہے۔اور جب مقابلہ کمزور ہو جائے تو احتساب بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔پاکستان میں طاقت کے مراکز ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتے‘سیاست، کاروبار، بیوروکریسی، عدلیہ اور دیگر ادارے اکثر باہم مربوط دکھائی دیتے ہیں۔
یہ الزام نہیں — سماجی مشاہدہ ہے۔جب ریاستی ڈھانچہ مکمل طور پر ادارہ جاتی نہ ہو تو فیصلے ضابطے سے زیادہ تعلقات کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کو محسوس ہوتا ہے کہ رسائی، قابلیت پر غالب ہے۔یہ احساس اگر پھیل جائے تو اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔
اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔ہم اکثر قیادت کا موازنہ افراد کی بنیاد پر کرتے ہیں، اداروں کی بنیاد پر نہیں۔
اگر کوئی رہنما ایسے خاندان سے ہو جو دہائیوں سے اقتدار کے قریب رہا ہو تو نظام کی رفتار مختلف ہو جاتی ہے۔یہ بات شخصی صلاحیت سے زیادہ ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ریاست اگر شخصیات کے گرد گھومے گی تو پالیسیاں بدلتی رہیں گی۔
ریاست اگر اداروں کے گرد کھڑی ہو گی تو تسلسل پیدا ہوگا۔پاکستان کا مسئلہ جمہوریت یا آمریت کا نہیں —
پاکستان کا مسئلہ ادارہ جاتی استحکام کا ہے۔دنیا کے کئی ممالک نے اشرافیہ کے غلبے کا دور دیکھا۔کہیں سیاسی خاندان دہائیوں تک غالب رہے۔کہیں کاروباری و ریاستی گٹھ جوڑ نے اقتدار کو محدود رکھا۔لیکن جہاں:عدلیہ آزاد ہوئی،انتخابات شفاف ہوئے،سیاسی جماعتوں میں داخلی جمہوریت آئی،سول سروس کو میرٹ پر استوار کیا گیا،احتساب کو غیر جانبدار بنایا گیا —وہاں نظام نے افراد پر سبقت لے لی۔

تاریخ کا اصول واضح ہے:مضبوط ادارے، مضبوط ریاست بناتے ہیں۔مضبوط خاندان نہیں۔ہر مذہب عدل کی بات کرتا ہے۔
قرآن مجید کا حکم ہے کہ انصاف پر قائم رہو، چاہے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔فلسفہ ہمیں بتاتا ہے کہ بے حسی معاشروں کو کمزور کرتی ہے۔
تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کا نظام دیرپا نہیں ہوتا۔لیکن انصاف محض نیت سے نہیں آتا۔اسے نافذ کرنے کے لیے طاقتور اور غیر جانبدار ادارے چاہیے۔اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں جذبات سے آگے بڑھ کر ساختی اصلاح کی طرف جانا ہوگا۔سیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابات۔ٹکٹوں کی تقسیم میں شفاف معیار۔سول سروس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ۔مسابقتی امتحانات میں مکمل شفافیت۔بلدیاتی نظام کو حقیقی اختیارات۔احتسابی اداروں کی آزادی۔ڈیجیٹل گورننس کے ذریعے انسانی صوابدید میں کمی۔طویل المدتی قومی پالیسیوں کا تسلسل۔یہ اقدامات کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں ‘یہ ریاست کے حق میں ہیں۔میری آواز کسی شخصیت کے خلاف نہیں۔میری آواز ایک اصول کے حق میں ہے۔عام آدمی کی بحالی۔میرٹ کی بالادستی۔اداروں کی مضبوطی۔پالیسیوں کا تسلسل۔قانون کی یکساں عمل داری۔جب اصول کو طاقت مل جائے گیتو لوگ طاقتور کے دروازے پر نہیں جائیں گے۔وہ انصاف کے دروازے پر جائیں گے — اور انہیں یقین ہوگا کہ وہاں فیصلہ بھی ہوگا اور نفاذ بھی۔
پاکستان کو نعرے نہیں، نظام چاہیے۔پاکستان کو وقتی جوش نہیں، طویل المدتی استحکام چاہیے۔پاکستان کو شخصیات کی کشش نہیں، اداروں کی مضبوطی چاہیے۔دانش کو جرات درکار ہے۔اصلاح کو صبر درکار ہے اور قوم کو سچ سننے اور قبول کرنے کی ہمت درکار ہے۔اگر ہم نے نظام کو شخص سے بڑا بنا دیاتو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہوگا۔اور اْس دن اقتدار اصول کے تابع ہوگا  اور اصول طاقتور ہوں گے۔