راولپنڈی: نابالغ بچی سے جنسی زیادتی کے ملزم کی فوری گرفتاری

راولپنڈی: نابالغ بچی سے جنسی زیادتی کے ملزم کی فوری گرفتاری

گوجرخان، راولپنڈی میں واقع ایک 13 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا ایک المناک واقعہ پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم ہارون کو گرفتار کر لیا۔

 مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، مدعی (بچی کے والدین) کا کہنا ہے کہ ملزم نے ان کی نابالغ بیٹی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس کی فوری کارروائی
گوجرخان پولیس کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقدمہ درج کر لیا گیا اور ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس کے مطابق، متاثرہ بچی کا میڈیکل معائنہ کروایا جا رہا ہے، اور تمام شواہات اکٹھے کر کے ملزم کو عدالت میں چالان کیا جائے گا۔

ایس پی راولپنڈی کا بیان
راولپنڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) صدر محمد نبیل کھوکھر نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد اور زیادتی ناقابل برداشت جرائم ہیں، اور ایسے مجرموں کو قانون کے شکنجے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔" انہوں نے یقین دلایا کہ عدالت تک پہنچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

سماجی ردعمل اور قانونی کارروائی
یہ واقعہ ایک بار پھر معاشرے میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات کھڑے کر گیا ہے۔ پاکستان میں "زینب الرٹ سسٹم" اور "اینٹی ریپ (عمران اسلم) ایکٹ 2021" جیسے قوانین موجود ہیں، جو بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی سخت سزا یقینی بناتے ہیں۔ ملزم کے خلاف اگر ثبوت مکمل ہوں تو اسے عمر قید یا سخت سزا دی جا سکتی ہے۔

متاثرہ بچی کی بحالی
پولیس اور مقامی حکام نے متاثرہ بچی کو طبی اور نفسیاتی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ سماجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بچوں کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔اس واقعے نے گوجرخان اور راولپنڈی کے علاقے میں تشویش پھیلائی ہے، اور عوام پولیس سے توقع کر رہی ہے کہ وہ مقدمے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں گی۔