حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے بعد پیٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کی گئی ہے۔

نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے 20 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول 395 روپے 80 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہورہا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں 17 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 398 روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔

پیٹرول کی قیمت میں اضافے پر شہری پریشان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل پر شہریوں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے باعث پہلے ہی گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے، ایسے میں پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ عام آدمی پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے موٹر سائیکلوں اور دیگر نجی گاڑیوں پر سفر کرنے والوں کے اخراجات بڑھیں گے، جبکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

شہریوں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف سفری اخراجات تک محدود نہیں رہتے بلکہ سامان کی ترسیل مہنگی ہونے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے موجودہ دباؤ میں عوام کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

حکومت سے عوامی مشکلات کم کرنے کا مطالبہ

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے گھریلو بجٹ پر دباؤ کم ہو۔ ان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مناسب کمی سے ٹرانسپورٹ اور کاروباری اخراجات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔پیٹرول کی قیمت میں اضافے اور ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کے بعد عوام کی نظریں اب حکومت کے آئندہ فیصلوں پر لگی ہوئی ہیں۔ تاہم، نئی قیمتوں کے معیشت اور عام شہریوں کے اخراجات پر مجموعی اثرات کا انحصار دیگر معاشی عوامل پر بھی ہوگا۔