امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو محکمہ تعلیم کو تحلیل کرنے کے اقدامات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے امریکہ میں ایک بڑا قانونی اور سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
پس منظر:
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران محکمہ تعلیم کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور انہوں نے 2025 میں اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر اس ادارے کی آدھی افرادی قوت کو فارغ کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تعلیم کی ذمہ داری ریاستوں کی ہے، نہ کہ وفاق کی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ:
سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ میں سے 3 لبرل ججوں نے فیصلے کی مخالفت کی۔اکثریتی قدامت پسند ججوں نے ایک فیڈرل کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں سینکڑوں برطرف ملازمین کی بحالی کا حکم دیا گیا تھا۔عدالت نے کوئی وضاحت دیے بغیر یہ اجازت دی کہ ٹرمپ اپنے اقدامات جاری رکھ سکتے ہیں۔
جج کا اختلافی نوٹ:
سپریم کورٹ کی جج سونیا سوتو مئیر نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا:“صرف کانگریس کو محکمہ تعلیم کو ختم کرنے کا اختیار ہے۔ عدالت کی خاموشی ہمارے آئینی نظام کے لیے خطرناک ہے۔”
مخالفت اور خدشات:
20 ریاستوں اور اساتذہ کی یونینز نے سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا تھا کہ:محکمہ تعلیم 1979 میں کانگریس کے قانون کے تحت قائم ہوا تھا۔ٹرمپ کا یہ اقدام کانگریس کے اختیارات پر حملہ ہے۔اس فیصلے کے بعد ریاستوں اور تعلیمی اداروں میں شدید بے چینی اور قانونی چیلنجز کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔
محکمہ تعلیم کی اہمیت:
اگرچہ امریکہ میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کی مالی امداد زیادہ تر ریاستی اور مقامی حکومتیں دیتی ہیں، لیکن وفاقی سطح پر فنڈنگ:
کم آمدنی والے علاقوں میں اسکولوں کے لیے
خصوصی ضروریات والے بچوں کے لیے
اور طلبہ کے شہری حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ٹرمپ کی حکمت عملی:
صدر ٹرمپ نے 2025 میں اقتدار سنبھالتے ہی:
وفاقی اداروں میں بڑی ملازم کٹوتی
USAID جیسے بین الاقوامی اداروں کو ختم کرنے
اور ڈائیورسٹی پروگراموں کی بندش کا منصوبہ دیا ہے۔