حکومتی امور چلانے کے اخراجات میں رواں مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے مجموعی مالی دباؤ اور سرکاری اخراجات میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک کے 9 ماہ میں حکومتی امور چلانے پر 629 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 12.57 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ اخراجات 558 ارب 77 کروڑ روپے تھے۔اعداد و شمار کے مطابق سہ ماہی بنیادوں پر بھی اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جنوری تا مارچ 2026 کے دوران حکومتی امور چلانے کے اخراجات 248 ارب 40 کروڑ روپے رہے، جبکہ اکتوبر تا دسمبر 2025 میں یہ 219 ارب 42 کروڑ روپے تھے۔ اس سے قبل جولائی تا ستمبر 2025 کی سہ ماہی میں یہ اخراجات 161 ارب 18 کروڑ روپے ریکارڈ کیے گئے تھے۔سرکاری دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ان اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے اور مجموعی ہدف 971 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
موازنہ کیا جائے تو گزشتہ مالی سال 2024-25 میں حکومتی امور چلانے پر تقریباً 892 ارب روپے خرچ ہوئے تھے، جبکہ اس سے پچھلے مالی سال 2023-24 میں یہ اخراجات 784 ارب روپے تھے۔ اس سے پہلے مالی سال 2022-23 میں 634 ارب روپے اور 2021-22 میں 547 ارب روپے خرچ کیے گئے تھے۔ماہرین کے مطابق مسلسل بڑھتے ہوئے انتظامی اخراجات مالی دباؤ میں اضافے اور بجٹ خسارے پر مزید اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے آئندہ مالی پالیسیوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے۔