بانی ایک ہزار دن سے جیل میں ہیں بشری بی بی کیخلاف جھوٹے مقدمات،سلمان اکرم،حامدخان،لطیف کھوسہ
اسلام آباد (آن لائن)تحریک انصاف رہنماؤں نے کہا ہے کہ ہائیکورٹ سے غیر قانونی طریقے سے بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا۔ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کرنے والے جمہوری
لوگ نہیں۔بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی صحت کو سنگین خطرات ہیں۔ان خیالات کا اظہار سلمان اکرم راجہ،حامدخان اورسردارلطیف خان کھوسہ ودیگر نے بدھ کومیڈیاسے گفتگو کے دوران کیا ہے۔سینئر وکیل لطیف کھوسہ کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہائیکورٹ سے غیر قانونی طریقے سے بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا،سپریم کورٹ نے گرفتاری غیر قانونی قرار دی جس پر عملدرآمد نہیں ہوا،میرے حلقے سے کور کمانڈر ہاوس پر حملے کا ڈرامہ کیا گیا،تمام توڑ پھوڑ فالس فلیگ آپریشن تھا،پارلیمنٹ سے 10 ایم این ایز کو گرفتار کیا گیا انھیں بند کیا گیا،ایاز صادق صاحب نے آج تک کوئی کاروائی نہیں کی،26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کرنے والے جمہوری لوگ نہیں،ہم صرف آئین و قانون کی عملداری چاہتے ہیں،یہ فارم 47 کی بٹھائی ہوئی حکومت ہے،اس ملک میں کوئی نہیں رہنا چاہتا لوگوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے،لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے،کراچی میں ایک پنکی آتی ہے اسے شان و شوکت سے دکھایا جاتا ہے،پنکی کو پولیس پروٹوکول دے رہی تھی۔یہ ہے وہ اشرافیہ جو عوام پر قابض ہے،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے مقدمات نہ لگے تو احتجاج ہوگا۔سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ آج ہمیں تمام عدالتی دروازے بند نظر آتے ہیں،بانی پی ٹی آئی ایک ہزار دن سے جیل میں ہیں بشری بی بی کیخلاف جھوٹے مقدمات درج ہیں، توشہ خانہ سمیت تمام من گھڑت مقدمات ہیں،سرکاری گواہان کے بیانات پر مقدمات بنائے گئے، ہر قیدی کے بنیادی آئینی حقوق ہیں،ملاقاتوں اور وکالت ناموں پر دستخط کروانے پر پابندی ہے،بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی صحت کو سنگین خطرات ہیں،بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے،صحت کی سنگینی کے باوجود بہنوں کی ملاقاتیں بھی بند ہیں،ملاقاتوں کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کروایا جارہا۔اپنے من پسند لوگوں کی ملاقاتیں کروائی جاتی ہیں،بانی پی ٹی آئی پر تشدد ہورہا ہے انکی آنکھ ضائع ہوچکی، سپریم کورٹ میں درخواستیں دیں مگر کوئی نہیں سن رہا،ایک دوسرے سیاسی قیدی کو جیل میں تمام سہولیات میسر تھیں،تمام قانونی طریقے آزما چکے ہیں،اپنا مقدمہ پاکستانی عوام کے سامنے رکھتے ہیں،انگریز کے دور میں بھی لوگ خطوط اور کتابیں لکھتے تھے، تہاڑ جیل سے بھی قیدیوں کی آوازیں ہم تک پہنچ رہی ہیں،کسی دور میں اتنی پابندی نہیں تھی جتنی اب ہے، اس ملک کو استحکام کی ضرورت ہے،معیشت اس ملک کی تباہ ہوچکی ہے،خیبرپختواہ خون میں نہایا ہوا ہے،ہر صوبے کو تباہ کر دیا گیا ہے،سڑکوں پر آنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں۔عدلیہ کو ختم کر دیا گیا ہے،ججز کو سزا دینے کیلئے دوسرے صوبوں میں بھیج دیا گیا ہے۔سینئر قانون دان حامد خان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج ہم بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی سے ملاقات کیلئے درخواست دائر کر رہے ہیں۔جیل میں سہولیات اور ملاقاتوں کیلئے درخواست دائر کر رہے ہیں،ایک سال اپیل زیر التوا رکھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ نے خارج کر دی،سلمان اکرم راجہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔وکیل نہیں ملے گا تو وکالت نامے پر دستخط کیسے ہونگے،یہ ججز آئین و قانون کے تحفظ کیلئے ہیں صرف تنخواہیں لی جارہی ہیں