نجانے ہم کب ناراض ہو کر حکومت چھوڑ دیں": ڈاکٹر خالد مقبول

نجانے ہم کب ناراض ہو کر حکومت چھوڑ دیں

وفاقی وزیر تعلیم، خالد مقبول صدیقی نے نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کورنگی میں آئی ٹی لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پاکستان کی ترقی بھی متاثر ہوئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کراچی کے ادارے جو بند کیے گئے، وہ کہیں اور منتقل ہو گئے اور کراچی کی ترقی کو نظر انداز کرنے کا نقصان پورے ملک کو ہوا۔صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی کے مترادف ہے، اور یہ شہر ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 50 سال کی پابندیوں کے باوجود شہر نے ترقی کی، اور اب ہمیں کراچی کی ترقی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر بھی بات کی اور کہا کہ ان اداروں کا کام عوام تک براہ راست فائدہ پہنچانا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے حوالے سے بھی بات کی اور عدالتوں کے فیصلوں کو بھی اہمیت دی، مگر ان فیصلوں میں بعض اوقات درست اور غلط دونوں پہلو ہوتے ہیں۔خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ فیصل واؤڈا ایم کیو ایم کے نمائندے نہیں ہیں، اور ان کی سوچ اور ایم کیو ایم کی سوچ میں فرق ہے۔