بھوپال کا ۱۴۰ سال پر اناتاج محل

مسرور احمد مسرور

بھارت کے شہر آگرہ میں واقع تاج محل کے بارے میں تو دنیا جانتی ہے کہ مغل بادشاہ شاہجہان نے اسے اپنی بیوی ارجمند بانو بیگم (ممتاز محل) کی یاد میں اپنی محبت کی نشانی کے طور پر تعمیر کروایا تھا لیکن بھارت کے شہر بھوپال میں بھی ایک تاج محل ہے جو 19 ویں صدی میں بھوپال کی گیارہویں حکمران خاتون نواب شاہجہان بیگم نے اپنی رہائش گاہ کے طور پر تعمیر کروایا تھا جسے شاہی محل قرار دیا گیا۔ تاج محل بھوپال کے تمام محلات میں سب سے بڑا محل ہے اس کے علاوہ تاج محل کا شمار دنیا کے چند بڑے محلوں میں بھی کیا جاتا ہے، کئی مورخین اسے آٹھواں عجوبہ بھی قرار دیتے ہیں، بھوپال میں واقع تاج محل کی تعمیر کا کام 1871 میں شروع ہوا اور 1884 میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ 13 سال کے عرصے میں تعمیر ہونے والے تاج محل پر اس وقت 70 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ یہ عالی شان محل موتیہ تالاب کے کنارے پر واقع ہے اور محل کے ایک طرف عظیم الشان مسجد تاج المساجد واقع ہے جس کا شمار دنیا کی بڑی مساجد میں کیا جاتا ہے اور اس مسجد کی تعمیر کا کام نواب شاہجہان بیگم نے ہی شروع کروایا تھا انھیں فن تعمیرات سے بے پناہ دلچسپی تھی اور انھوں نے اپنے دور حکمرانی میں بھوپال میں بے شمار عمارتیں تعمیر کروائیں جو آج تاریخی ورثے کے طور پر موجود ہیں۔ اپنی رہائش کے لیے بنائے جانے والے تاج محل کے تعمیراتی کاموں میں دلچسپی لیتے ہوئے اسے ایک شاہکار محل بنانے کی کوشش بھی کی۔اس تاریخی تاج محل میں 120 کمرے 8 ہال شیش محل، جھروکا اور ساون بھادوں پویلین بنائے گئے۔ محل کے تمام 120 کمروں میں مختلف کلر اسکیم اور مختلف قسم کی نقش و نگاری کی گئی تھی۔
تاج محل کی تکمیل پر نواب شاہ جہاں بیگم بہت خوش تھیں اور انھوں نے تین سال تک جشن تاج محل منانے کا اعلان کیا۔ ساون بھادوں پویلین کو محل کا سب سے زیادہ تخلیقی اور خوب صورت حصہ قرار دیا جاتا تھا جو 50 فٹ لمبااور 50 فٹ چوڑا تھا۔ اس عالی شان محل کی تعمیر میں اسلامی فن تعمیر کے علاوہ فرانسیسی، برطانوی، مغل اور ہندو فن تعمیر کی جھلک بھی نظر آتی تھی۔ شروع میں اس محل کا نام راج محل رکھا گیا تھا جہاں بیٹھ کر شاہجہان بیگم نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک راج کیا لیکن محل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد نواب شاہ جہاں بیگم نے برطانوی ریزیڈنٹ کو اپنے محل میں مدعو کیا تو وہ محل کی شان و شوکت دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور اس نے اس محل کا نام تاج محل رکھنے کے لیے کہا جسے شاہجہان بیگم نے قبول کرتے ہوئے شاہی محل کا نام راج محل سے تبدیل کرکے تاج محل رکھ دیا۔
تقسیم ہند کے بعد بڑی تعداد میں سندھی پناہ گزین بھوپال پہنچے تو بھوپال کے آخری حکمران نواب حمید اللہ خان نے ان سندھی پناہ گزینوں کو اس تاریخی تاج محل میں پناہ لینے کی اجازت دی۔ یہ لوگ چار سال تک اس تاریخی نوعیت کے تاج محل میں قیام پذیر رہے لیکن اس عرصے میں ان لوگوں نے محل کی شکل بگاڑ کر رکھ دی اور محل کی خوبصورتی کو شدید نقصان پہنچایا جس کے بعد ان لوگوں کو بیرا گڑھ کے علاقے میں منتقل کیا گیا۔ آگرہ کے تاج محل کے برعکس بھوپال کا تاج محل کھنڈر بنتا جا رہا تھا اس عالی شان محل کی حالت خراب سے خراب ہوتی دیکھ کر مدھیہ پردیش کی حکومت نے 2005 میں تاج محل کو ریاستی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس محل کی شان و شوکت کو اصل حالت میں قائم رکھنے کے سلسلے میں منصوبہ بندی کی اور اس تاریخی ورثے کی عظمت کو بحال کرنے کے سلسلے میں ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
 لیکن ا قدا مات ہو تے نظر نہیں آ رہے۔    سرج سینٹیلی پیرس میں تعمیرات کے اسکول کے ڈین رہے  ہیں، انھیں قدیم تاریخی عمارات سے بہت زیادہ دلچسپی  تھی وہ پیرس میں جس مکان میں رہتے تھے وہ 16 ویں صدی میں تعمیر ہوا تھا۔ انھیں بھوپال کے تاج محل کے تعمیراتی حسن کو برقرار رکھنے اور اس محل کی شان و شوکت کو تحفظ دینے کے سلسلے میں بھوپال بلایا گیا تھا۔ فرانس کے عظیم ماہر تعمیرات نے تاج محل کو دنیا کے بہترین محلوں میں سے ایک قرار دیا ہے اور انھوں نے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے سلسلے میں کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا جا نا
چا ہیئے۔یہاں تک تو سب ٹھیک ہے لیکن اس قیمتی 
ا ثاثے کے با رے میںمو جو دہ صو رت حال کسی طرح ا طمینان بخش نہیں ہے اس تا ر یخی عما رت  میں جو کچھ ہو نا چا ہیئے تھا وہ کچھ کسی طرح
بھی ہو تا نظر نہیںآتانہ تو اس تا ر یخی عما ر ت کو ہیریٹج ہو ٹل بنا نے کے منصوبے پر عمل در آمد کی کو ئی صو رت د کھا ئی دے رہی ہے نہ ہی اس
قیمتی ا ثاثہ کی صیح طور پر دیکھ بھال کی جا رہی ہے اس عالیشان محل کے بہت قریب ایک مسجد اور ایک مندر ہو نے کے با وجود اس محل کے سامنے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر نمایاں  طور پر دیکھے جا سکتے ہیںمقا می انتظا میہ اور بھو پال میو نسپل کا ر پو ریشن کو اس قومی ا ثا ثے کی ا ہمیت کو پیش نظر رکھتے ہو ئے ا پنی ذمہ داری میں غفلت کا مظا ہرہ کر نے سے ا حتراز کر نا چا ہیئے یہ خبر خوش ا ٓیئند ہے کے بھو پال کی ایک دوسری تا ریخی
عمارت صدر منزل کو ہیریٹیج ہو ٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔