آئی پی پیز کیساتھ30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشاف

 پاور پلانٹس کے ساتھ پاور ڈویڑن کے معاہدے 2055 میں ختم ہوں گے
حکومت نجی کمپنیوں کو بجلی استعمال کرنے یا نہ کرنے کے باوجود ادائیگی کی پابند 
اسلام آباد (بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک)ایک طرف آئی پی پیز سے جان چھڑانے کے دعوے ، دوسری طرف حکومت کی طرف سیآئی پی پیز(نجی بجلی گھروں)کیساتھ30 اور 40 سال کے نئے معاہدے کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت کے بھی 4 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ،وزارت توانائی کی دستاویز کے مطابق موجودہ حکومت نے 2025 میں چار آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کر لئے، جامشورو کول نامی پاور پلانٹ کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو 30 سالہ معاہدہ کیاگیا،اسی طرح نیوکلیئر توانائی پر چلنے والے 2پاور پلانٹس کے ساتھ 26 جون 2025 کو 40 ،40سالہ معاہدے کئے جبکہ 3 جون 2025 کو کوٹ ادو پاور پلانٹ کے ساتھ بھی حکومت نے تین سالہ معاہدہ کیا۔دستاویز کے مطابق کانپ کے 2 اور کانپ کے 3 نامی پاور پلانٹس کے ساتھ پاور ڈویڑن کے معاہدے 2055 میں ختم ہوں گے،کئی معاہدے 2050 کے بعد بھی مئوثر ہوں گے،اس وقت کل 105 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے مئوثر ہیں ، بیشتر کی مدت 20 سال سے زائد باقی ہے۔وزارت توانائی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی دور حکومت میں 27 معاہدے کیے ،49 معاہدے مسلم لیگ (ن)کے سابق دور حکومت میں کئے گئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز )سے معاہدے بجلی کی پیداوار اور خریداری کیلئے کئے گئے ہیں۔ معاہدوں کے تحت حکومت نجی کمپنیوں کو بجلی استعمال کرنے یا نہ کرنے کے باوجود ادائیگی کرنے کی پابند ہے، یعنی پلانٹ کی پیداواری صلاحیت (Capacity)کے مطابق طے شدہ معاوضہ دینا لازمی ہوتا ہے اور ان میں سے کئی ادائیگیاں امریکی ڈالر یا ڈالر کے مساوی شرح سے کی جاتی ہیں۔