لاس اینجلس: ہالی ووڈ کی پہلی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اداکارہ ٹلی نوروڈ نے اپنا پہلا آن کیمرا انٹرویو دیا، جس کے دوران انہیں باقاعدہ آڈیشن کی طرز پر اداکاری کا چیلنج بھی دیا گیا۔
سی این این کی میزبان الزبتھ ویگمسٹر نے ٹلی نوروڈ سے کہا کہ وہ تصور کریں کہ انہیں ابھی معلوم ہوا ہے کہ ان کا پالتو کتا انتقال کرگیا ہے اور وہ اس صورتحال پر اداکاری کرکے دکھائیں۔جواب میں اے آئی اداکارہ نے کہا کہ اگر یہ آڈیشن ہوتا تو وہ شاید بالکل خاموش کھڑی رہتیں اور اس دکھ کو ’’ڈیجیٹل طور پر محسوس‘‘ کرتیں۔ابتدائی پرامپٹس کے ذریعے ٹلی مطلوبہ جذباتی منظر پیش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ مکمل ٹیک تیار کرنے کے لیے ان کے پیچھے کام کرنے والی کمپنی Particle 6 کو کئی گھنٹوں کی کمپیوٹر پروسیسنگ کرنا پڑی۔سی این این کی میزبان نے تجربے کے بعد نشاندہی کی کہ ٹلی نوروڈ خود سے اداکاری نہیں کرتیں بلکہ انہیں مسلسل پرامپٹس اور تکنیکی ہدایات درکار ہوتی ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کس انداز میں ردعمل دینا ہے۔
ٹلی نوروڈ کی تخلیق کار ایلین وان ڈیر ویلڈن کی خواہش ہے کہ مستقبل میں ان کی اے آئی اداکارہ اسکارلیٹ جوہانسن یا نٹالی پورٹ مین جیسا مقام حاصل کرے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ٹلی کو انسانی اداکاروں کی جگہ لینے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ٹلی نوروڈ اب تک کسی ریلیز شدہ فلم میں نظر نہیں آئیں، تاہم وہ آنے والی فیچر کامیڈی ڈراما فلم ’مس الائنڈ‘ میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔ فلم انسانی فلم سازوں اور اے آئی ماہرین کے اشتراک سے تیار کی جائے گی۔