امریکی امیگریشن حکام کی جانب سے برطانوی فلسطینی حامی اور صحافی سمیع حمدی کو دو ہفتے سے زائد قید کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، سمیع حمدی کے وکلاء اور خاندان نے تصدیق کی ہے کہ وہ جلد اپنے وطن واپس پہنچیں گے۔35 سالہ سمیع حمدی کو 26 اکتوبر کو سان فرانسسکو ایئرپورٹ پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ امریکا میں اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے خلاف اپنی تقریری مہم کے دوران سفر کر رہے تھے۔وکلاء کا کہنا ہے کہ حمدی کو صرف فلسطین کے حق میں مؤقف اور اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکومت نے ان کا ویزا بغیر اطلاع منسوخ کیا اور پھر ’ویزے کی مدت سے تجاوز کرنے‘ کا بے بنیاد الزام لگا کر گرفتار کیا۔وکلاء کا موقف ہے کہ حمدی پر کسی قسم کا جرم یا سیکیورٹی خطرہ عائد نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حمدی کی گرفتاری اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ تھی۔