پی ٹی آئی والے بعض فیصلے اکیلے کرلیتے ہیں اور ہمیں برا بھلا بھی بولتے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ کس پر بھروسہ کریں ،گفتگو
اسلام آباد (آئی این پی)جمعیت علما اسلام پاکستان کے سینئر رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خا ن مولانا فضل الرحمن سے ملنا چاہتے ہیں ، یہ بات پی ٹی آئی کی دوسرے تیسرے درجے کی قیادت کے ذریعے بطور گپ شپ ہم تک پہنچی تھی۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جب جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمن تک یہ بات پہنچی کہ عمران خان ان سے ملنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اس پر کوئی خاص رد عمل نہیں دیا اور نہ ہی یہ معاملہ پارٹی کے سامنے رکھا۔ اس حوالے سے جو بھی بات ہوگی مولانا فضل الرحمن شوریٰ کے سامنے رکھیں گے۔ایک سوال پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمان کی اتنی خواہش ضرور تھی کہ پی ٹی آئی اور جے یوآئی کے درمیان رابطوں کے لیے فوکل پرسن ضرور ہونا چاہیے تاکہ اس حوالے سے کوئی کنفیوژن نہ پیش آئے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے کس کی بات پر یقین کریں اور کس کی بات پر یقین نہ کریں۔انہوں نے شکوہ کیاکہ علی امین گنڈا پور سے الگ طرح کے اشارے ملتے ہیں، کبھی وہ ہمیں سودے باز بنادیتے ہیں ، کبھی ہمیں فائدہ اٹھانے والا بنادیتے ہیں، اب پتا نہیں ان کی بات درست ہے یا کسی اور دوست کی درست ہے، پہلے پتا تو چلے کہ کس کی بات پر بھروسہ کیا جائے۔ سینیٹر کامران مرتضی نے کہاکہ ہم ایشوز کی بنیاد پر سیاست کررہے ہیں، ہم اپوزیشن میں پی ٹی آئی کے ساتھ یکجا ہوکر سیاست کرتے ہیں، انہیں اعتماد میں لیتے ہیں اور وہ اکثر ہمیں اعتماد میں نہیں لیتے، پی ٹی آئی والے بعض فیصلے اکیلے کرلیتے ہیں اور ہمیں برا بھلا بھی بولتے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ کس پر بھروسہ کریں اور کس کی بات کو درست تسلیم کریں، پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سے یہ بات ہم تک پہنچنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس ابھی پری میچور ہے، ہماری جماعت کا فیصلہ یہ ہے کہ ایشو بیس سیاست کی جائے، گرینڈ الائنس کے حوالے سے ہمارا تلخ تجربہ رہا ہے۔