وفاقی حکومت کی جانب سے ریلیف دینے کی گنجائش محدود ہے، سب کچھ قرض لے کر کر رہے ہیں: محمد اورنگزیب

وفاقی حکومت کی جانب سے ریلیف دینے کی گنجائش محدود ہے، سب کچھ قرض لے کر کر رہے ہیں: محمد اورنگزیب

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ میں جو بھی ریلیف دیا گیا ہے وہ مالی گنجائش کے اندر رہتے ہوئے دیا گیا ہے اور حکومت کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات قرض لے کر ممکن بنائے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ:"ہم تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دے سکتے ہیں لیکن وہ بھی اتنا جتنا ہماری مالی استطاعت اجازت دیتی ہے، یہ ایک آغاز ہے اور ہم ممکنہ حد تک مزید ریلیف فراہم کرتے جائیں گے۔"
 حکومت قرض لے کر ہی سب کچھ کر رہی ہے
انہوں نے کھل کر تسلیم کیا کہ:"حکومت جو کچھ بھی دے رہی ہے وہ قرضے لے کر دے رہی ہے، اگر مزید قرض لیا تو ہم سے پوچھا جائے گا، ہمیں اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے ہوں گے۔"
 چھوٹے کسانوں کو آسان قرض، زرعی شعبے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ:حکومت نے آئی ایم ایف کو قائل کر لیا ہے کہ زرعی شعبے پر اضافی ٹیکس نہ لگایا جائے۔چھوٹے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں گے۔زرعی ترقی اور لائیو اسٹاک کے فروغ کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر پالیسی تشکیل دی جائے گی۔

 کسٹمز ڈیوٹیز میں کمی، برآمدات میں اضافہ کی امید
وزیر خزانہ نے کہا کہ:بجٹ میں 4 ہزار ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹیز کم کی گئی ہیں۔اس اقدام سے ٹیکس ریونیو میں وقتی کمی ضرور ہوگی لیکن ملکی برآمدات میں اضافے کی توقع ہے۔
 تنخواہ و پنشن کو مہنگائی سے منسلک کرنے کا عندیہ
انہوں نے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن کو مہنگائی کے اشاریے سے منسلک کرنے کا نظام ہونا چاہیے تاکہ عوامی طبقے کو بہتر سہولت دی جا سکے۔

 اخراجات میں کفایت شعاری، مگر کچھ شعبوں میں اضافہ ناگزیر
محمد اورنگزیب نے بتایا:"ہماری کوشش ہے کہ وفاقی اخراجات کم کیے جائیں، رواں بجٹ میں اخراجات کو جی ڈی پی کے 2 فیصد کے اندر محدود کیا ہے۔ تاہم، کچھ ضروری شعبے ایسے ہیں جہاں اخراجات میں اضافہ ناگزیر تھا۔"
مہنگائی میں کمی کا امکان
وزیر خزانہ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت 7.5 فیصد ہے اور حکومت اسے مزید کم کرنے کے لیے پالیسی اقدامات جاری رکھے گی۔

خلاصہ:
محمد اورنگزیب کی پریس کانفرنس نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ حکومت کو بجٹ میں ریلیف دینے کے لیے سخت مالی چیلنجز کا سامنا ہے، اور تقریباً ہر ترقیاتی یا عوامی فلاحی قدم قرضوں پر انحصار کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔ تاہم، حکومت کا ارادہ ہے کہ چھوٹے کسانوں کو سہولت فراہم کی جائے، برآمدات میں اضافہ ہو، اور تنخواہ دار طبقے کو بتدریج ریلیف دیا جائے۔