قاسم علی شاہ
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف جنگوں سے تباہ نہیں ہوتیں، بلکہ بعض اوقات ان کی بے حسی، ناقص منصوبہ بندی اور معاشی ناانصافیاں بھی انہیں اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ہر چند ماہ بعد کوئی نہ کوئی ایسا سانحہ جنم لیتا ہے جو چند روز تک قومی توجہ کا مرکز بنتا ہے، پھر خبروں کے ہجوم میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سانحات بدل جاتے ہیں، لیکن ان کے اسباب نہیں بدلتے۔
لاہور میں پہلے ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گری، پھر ایک نجی اسکول کی عمارت حادثے کا شکار ہوئی۔ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، کئی خاندان عمر بھر کے دکھ میں مبتلا ہو گئے۔ میڈیا پر شور برپا ہوا، حکومتی اداروں نے نوٹس لیے، تحقیقات شروع ہوئیں اور حسبِ روایت مقدمات درج کر دیے گئے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایف آئی آر درج ہونے سے آئندہ کوئی چھت گرنے سے رک جائے گی؟
کاہنہ میں ایک خاتون ٹیچر پر مقدمہ درج کر دیا گیا، جو صرف تین سو روپے ماہانہ فی بچہ کے عوض بچوں کو تعلیم دے رہی تھیں۔ ایک لمحے کے لیے قانون سے ہٹ کر انسانیت کی نظر سے سوچیے۔ کیا ایک ایسی خاتون، جو انتہائی محدود آمدنی میں اپنا گھر چلا رہی ہو، اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ لاکھوں روپے خرچ کر کے عمارت کی مرمت بھی کرائے؟ اگر عمارت غیر محفوظ تھی تو اس کی ذمہ داری صرف اس استاد پر کیسے عائد ہو سکتی ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں غربت اب جرم بھی بن چکی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسے واقعات کی جڑ کسی ایک شخص کی غفلت سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اس جڑ کا نام غربت ہے، بے روزگاری ہے، جہالت ہے اور وہ معاشی نظام ہے جس نے لاکھوں شہریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر رکھا ہے۔ جب روزگار محدود ہو، آمدنی ناکافی ہو اور ضروریات زندگی مہنگی ہوتی جائیں تو لوگوں کے پاس انتخاب کی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ وہیں رہتے ہیں جہاں سستی جگہ مل جائے، وہیں کاروبار کرتے ہیں جہاں کرایہ کم ہو، اور وہیں اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں جہاں فیس برداشت کی جا سکے۔
یہ کہنا آسان ہے کہ قانون پر سختی سے عمل ہونا چاہیے، اور یقیناً ہونا بھی چاہیے۔ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ مگر قانون کا مقصد صرف سزا دینا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا بھی ہے جن میں جرم یا حادثے کے امکانات کم سے کم رہ جائیں۔ اگر ریاست کا سارا زور صرف کارروائی پر ہو اور اصلاح پر نہ ہو تو مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، صرف کردار بدلتے رہتے ہیں۔
ہم اکثر بیماری کی علامات کا علاج کرتے ہیں، بیماری کی جڑ کا نہیں۔ ہر حادثے کے بعد چند گرفتاریاں، چند معطلیاں اور چند پریس کانفرنسیں عوام کو وقتی اطمینان تو دے دیتی ہیں، مگر زمینی حقیقت نہیں بدلتی۔ اگلے چند مہینوں بعد ایک اور چھت گرتی ہے، ایک اور خاندان اجڑتا ہے، ایک اور بے بس انسان قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہی خاتون ایک بہتر معاشی ماحول میں ہوتیں، اگر ان کے پاس مناسب وسائل ہوتے، اگر چھوٹے تعلیمی اداروں کے لیے آسان قرضے، تکنیکی معاونت اور عمارتوں کی باقاعدہ جانچ کا مؤثر نظام موجود ہوتا، تو شاید آج یہ مقدمہ درج کرنے کی نوبت ہی نہ آتی۔ ریاست کا کام صرف غلطی کے بعد حرکت میں آنا نہیں، بلکہ غلطی کے امکانات کو پہلے ہی کم کر دینا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں حکومتیں صرف قوانین نہیں بناتیں بلکہ ایسے معاشی حالات پیدا کرتی ہیں جہاں لوگ محفوظ عمارتیں تعمیر کر سکیں، اپنے کاروبار قانونی تقاضوں کے مطابق چلا سکیں اور اپنے بچوں کو بہتر ماحول میں تعلیم دلا سکیں۔ وہاں احتساب بھی ہوتا ہے اور سہولت بھی۔ ہمارے ہاں اکثر احتساب تو نظر آتا ہے، مگر سہولتیں کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ گرتی ہوئی چھتیں دراصل گرتی ہوئی ترجیحات کی علامت ہیں۔ جب ریاست کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹ جائے، جب غربت کو صرف اعداد و شمار میں دیکھا جائے اور انسانوں کی مجبوریوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو پھر ایسے سانحات معمول بن جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقتی ردِعمل سے آگے بڑھیں۔ غربت کے خاتمے کو قومی ترجیح بنایا جائے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، چھوٹے تعلیمی اداروں کی رہنمائی اور نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے، اور عوام میں تعمیراتی حفاظت کے حوالے سے شعور پیدا کیا جائے۔ یہی وہ اقدامات ہیں جو مستقبل میں کسی معصوم جان کو بچا سکتے ہیں۔آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ چھتیں اچانک نہیں گرتیں، ان کے گرنے سے پہلے نظام میں بہت سی دراڑیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں۔ اگر ہم صرف ملبہ ہٹاتے رہے اور ان دراڑوں کو نظرانداز کرتے رہے تو سانحات ہماری تقدیر نہیں، ہماری غفلت کا تسلسل بن جائیں گے۔سچ یہی ہے کہ جب تک غربت، جہالت اور بے روزگاری کی دیواریں قائم رہیں گی، تب تک صرف چھتیں ہی نہیں، امیدیں بھی گرتی رہیں گی۔