نظام بدلنا ہوگا

چودھری فرحان شوکت ہنجرا 

کہاوت ہے دوبدو لڑائی میں موقع پر  آپ کچھ نہ کرسکیں اور بعد میں بھر مکا اپنے منہ پر ہی ماریں۔یہی حال حکومت کا ہے شوگر ملز نے چینی بیرون ممالک فروخت کردی اور  حکومت اور سرکاری اداروں کو گارنٹی دی کہ  ملکی ضروریات سے زائد چینی فروخت کرنے کے باوجود چینی کی قیمت 140روپے کلو میں ہی پاکستان کے عوام کو دستیاب ہوگی لیکن آج ہر پرچون کریانہ دوکانوں پر چینی 170روپے کلو کے حساب سے مل رہی ہے چینی کی اگلی قیمت فروخت کس قیمت پر ہوگی اس کا انحصار  ذخیرہ اندوزوں پرہے جنہوں نے چینی ذخیرہ کرلی ہے تبی تو وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف صاحب نے چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی حکمرانوں کی جانب سے ایسے ہی بیانات داغے جاتے ہیں کہ مہنگائی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،ذخیرہ اندوزوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،مہنگائی کا قلع قمع کرکے ہی دم لیں گے۔ کمشنرز ڈپٹی کمشنرز پرائس کنٹرول مجسٹریٹ ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔عوام سے بڑھ کر کوئی نہیں۔انتظامی ریاستی ادارے کسی کو خاطر میں نہ لائیں۔کوئی سیاسی وابستگی کو خاطر میں نہ لایا جائے۔سستی معیاری اشیاء￿  کا حصول عوام کا حق ہے۔عوام کو ان کا حق ان کی دہلیز پر پہنچائیں گے۔اس کے علاؤہ حکمرانوں کے بیانات اس سے بھی زیادہ جذبات بھرے ہوتے ہیں کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو  نے مہنگائی کنٹرول نہ کرنے پر اعلیٰ ہیوروکریٹس کی سخت سرزنش کی  اس سرزنش کے نتیجے میں  سزا کمشنر ڈپٹی کمشنر کی بجائے ریلیف بازار کے سپروائزر اورمارکیٹ کمیٹی کے عملے کو معطل کرنے کے احکامات جاری کرنے کی صورت میں نکلتی ہے اسے کہتے ہیں سانڈوں کی لڑائی میں بیچارے پودے ہی کچلے جاتے ہیں 
پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور براہ راست عوام الناس کی جانب سے  رمضان المبارک کے پہلے روزے دوکانداروں کی سرعام لوٹ مار پھل سبزیاں برائلر گوشت مقررہ نرخوں سے زائد پر فروخت ہوئے سوشل میڈیا پر ایک صارف نے کہا کہ آئے تو تھے پھل خریدنے لیکن پھلوں کی قیمتیں جان کر صبر کے پھل پر ہی اکتفا کریں گے کیونکہ جو کیلا رمضان المبارک سے قبل ایک سو روپے درجن مل رہا تھا ضلعی انتظامیہ ،پرائس مجسٹریٹ اور نجائے کون سے مہنگائی کنٹرول کرنے والے سرکاری ادارے ہیں ان کے مرہون منت سرعام اونچی آواز لگانے والے پھل فروش دو سو روپے درجن کیلئے فروخت کر رہے ہیں جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ناجائز منافع خوری مہنگائی کے خلاف موثر اور جامع کریک ڈاؤن کا حکم ہے  میرے اس صارف بھائی کو نہیں معلوم کہ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی اشتہارات میں حکمرانوں کی لگی تصاویر کے پیچھے چھپ گئی ہے ہاں البتہ گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کیلئے دوچار پھل سبزی پرچون فروشوں کو دھر لیا جائے گا اور ایک خوبصورت اعلیٰ کارکردگی پر رپورٹ ارباب اقتدار و اختیارات کو بھیج کر سرکاری ادارے اپنے تئیں اور حکومت اشتہارات کے زریعے اپنی اعلیٰ کارکردگی شائع کرکے خود اپنوں ہی سے داد وصول کرے گی آخر وزرا۔معاون خصوصی مشیر اور اپنی سوشل میڈیا ٹیم اسی لیے تو ہے

وفاقی،صوبائی حکومتیں ان کے انڈر تمام سرکاری و نیم سرکاری قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ ادارے جن کے افسران و اہلکار ملک کے ہر سو موجود ہوں اور ان کے ہوتے ہوئے اگر مہنگائی کنٹرول نہیں ہورہی ذخیرہ اندوزی کا سدباب نہیں ہو رہا تو سمجھ لیں دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے 
پنجاب کیحکمران کہتے ہیں کہ حکومت نے رمضان المبارک میں عوام کو سستی چینی کی خریداری کیلئے سہولت بازار قائم کر دیئے گئے ہیں ایک موقر روزنامے میں لاہور میں سہولت بازار کے باہر جس طرح خریداروں کی لائن لگی تصویر شائع ہوئی ہے سر شرم سے جھک گیا ہے یہ تصویر دیکھ کرضرب المثل یاد آگئی ہے کہ کل کلاں کو خریداروں کی جانب سے یہ دردمندانہ اپیل کر دی جائے کہ روزے کی حالت میں ہوتے ہیں ایک لائن میں کھڑے رہنے سے  چینی خریدنے کی باری نہیں آتی اور اوپر سے افطاری کا وقت ہو جاتا ہے لہذا عوام دوست حکمرانوں سے التماس ہے کہ سستے سہولت بازار میں سستی چینی کے سٹالز کی تعداد بڑھا دیں ہم آپ کے احسان مند ہونگے اس پر ہمارے حکمران چونکہ بڑے عوام دوست اور درد رکھنے والے ہیں اس پر فوری عملدرآمد کر وا دیں گے اور کارکردگی پر کروڑوں کے اشتہارات شائع کرنا تو  پھر ان کا حق بنتا ہیچینی دوکانوں پر 130روپے کلو کیوں دستیاب نہیں ہے کیا ان کا حدود اربعہ ملک میں نہیں ہے کیا وہ حکومت اور سرکاری اداروں کی دسترس سے باہر ہے
دوسری جانب ایران میں مہنگائی اور ایرانی ریال کی کمی پر ایرانی پارلیمنٹ نے وزیر خزانہ کو برطرف کردیا ہے ایرانی پارلیمنٹ کے 273 میں سے 182 ارکان نے وزیر خزانہ کے خلاف ووٹ دیا ہے ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس کا الٹ ہے ابھی تازہ تازہ درجن سے زائد وفاقی وزرا و وزرا مملکت بننے کا حلف ملک کے عوام کے وسیع تر مفاد میں اٹھایا ہے