سپریم کورٹ میں مجرمانہ کارروائیوں کے الزام میں نوکری سے برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت

سپریم کورٹ میں مجرمانہ کارروائیوں کے الزام میں نوکری سے برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت

سپریم کورٹ میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے پر نوکری سے برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

 دوران سماعت، اے او آر (عدالت سے اجازت نامہ) کی التوا کی درخواست پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل کو ہدایت کی کہ خانیوال سے آئے پولیس اہلکاروں کا خرچہ ادا کریں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ پولیس اہلکار سرکاری زر سے یہاں آئے ہیں، اور ان سے کہا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں، جس پر پولیس اہلکار نے جواب دیا کہ خانیوال سے آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آؤٹ آف پیسہ کا کل خرچہ حساب لگا کر بتائیں، یہ رقم ادا کی جائے گی۔معاون وکیل نے استدعا کی کہ اس بار مہربانی کریں، اگلی بار خود خیال کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اے او آر ہیں، ہم آپ کو پندرہ منٹ بعد سنیں گے۔

معاون وکیل نے کہا کہ ان کے پاس بریف نہیں ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل موجود ہیں، آپ کو بریفنگ دی جائے گی اور پندرہ منٹ بعد سماعت ہوگی۔معاون وکیل نے مزید کہا کہ ان کا مسلئہ ایڈوکیٹ ان ریکارڈ کا ہے، جس میں کچھ مشکلات ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی مسئلہ نہ ہو، تو کیس ملتوی کیا جا سکتا ہے، اور عدالت حاضر ہے۔اس دوران، دو رکنی بنچ نے یہ سماعت کی، جس میں مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث افراد کی برطرفی کے خلاف درخواست پر سماعت جاری رہی۔